میتھی کتنی مفید ہے؟طب نبویؐ سے راز کھل گیا

میتھی کتنی مفید ہے؟طب نبویؐ سے راز کھل گیا


لاہور(24 نیوز)اللہ تعالیٰ نے کائنات میں کوئی چیز بے کار نہیں بنائی ،ہر چیز کا انسان کو کوئی نہ کوئی فائدہ ضرور ہے،خود رو پیدا ہونیوالی جڑی بوٹیاں جنہیں ہم بیکار سمجھتے ہیں ،اللہ نے ان میں بہت ساری بیماریوں کا علاج رکھا ہے،ہمارے نبیؐ نے ان کے فوائد بھی بتادئیے ہیں۔

میتھی کی بھجیا تقریباً ہر گھر میں ہی شوق سے کھائی جاتی ہے لیکن کیا آپ اس میں چھپے صحت کے لیےمفید راز جانتے ہیں؟ اگر نہیں تو آئیے اسے طبِ نبویﷺ کی روشنی میں جانتے ہیں۔

قاسم بن عبدالرحمنؒ سے مروی ہے کہ حضور پُرنور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ میتھی سے شفا حاصل کرو۔جب کہ امام ذہبیؒ سے منقول ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری امت اگر میتھی کے فوائد کو سمجھ لے تو وہ اِسے سونے کے ہم وزن خریدنے سے بھی دریغ نہ کرے۔

میتھی ، جسے عربی میں حلبہ کہا جاتا ہے۔اس میں معدنی نمکیات، فولاد، کیلشیم اور فاسفورس وغیرہ خاصی مقدار میں پائے جاتے ہیں۔ میتھی کا جو شاندہ حلق کی سوزش، وَرم، دُکھن، سانس کی گھٹن کے لیے اکسیر ہے۔ کھانسی کی شدّت بھی کم کرتا ہے، جب کہ معدے میں اگر جلن ہو، تو فوری راحت پہنچاتا ہے۔ علاوہ ازیں، میتھی بواسیر، پھیپھڑوں کی سوزش، ہڈیوں کی کم زوری، خون کی کمی، جوڑوں کے درد، ذیابطیس اور اعصابی تھکاوٹ دُور کرنے کے لیے بھی مؤثر ہے۔ متھی پیس کر موم کے ساتھ ملا کر اس کا لیپ کیا جائے، تو سینے کا درد رفع ہوجاتا ہے۔

Azhar Thiraj

Senior Content Writer