وفاقی دارالحکومت میں 96افراد قتل

وفاقی دارالحکومت میں 96افراد قتل


اسلام آباد (صدام مانگٹ) سال 2019 بھی ملزمان کے لئے اسلام آباد میں اچھا رہا ہے، شہر اقتدار میں قتل اقدام قتل،اغواء ڈکیتی اور چوری سمیت سنگین نوعیت کی سینکڑوں وارداتیں،وفاقی پولیس کا حسب روایت ملزمان کے خلاف کریک ڈاون کا دعوہیٰ محض دعویٰ رہا ۔

رواں سال کے دوران وفاقی دالحکومت جرائم کا گڑھ بنا رہا،2019 کے دوران 96 افراد کو موت کے گھاٹ اتارا گیاجبکہ 186 افراد کو قتل کرنے کی کوشش کی گئی،اغواء کے بعد زنااور اغواء برائے تاوان کے484 مقدمات درج ہوئے،اس دوران 27 مسلح ڈکیتی کی وارداتیں ہوئیں،چوری اور راہزنی کی 328وارداتیں ہوئیں جس میں شہری لاکھوں روپے سے محروم ہو گئے۔

2019 میں کروڑوں روپے مالیت کی 330گاڑیوں سے مالکان کو محروم کر دیا گیا جبکہ لاکھوں روپے مالیت کے موٹر سائیکل چوری کی 415 واقعات ہوئے،تھانہ شہزاد ٹاؤن اور کورال کے علاقوں میں ڈکیتی کی دو بڑی وارداتوں میں اڑھائی کروڑ بھی لوٹے گے،عام شہریوں کے ساتھ بنوں کے ایس پی نثار خان اور انکی فیملی کو بھی لوٹا گیا۔

وفاقی پولیس نے منشیات فروشوں کے خلاف بڑی کاروائیاں کیں جن میں 50 منظم گروہوں کو گرفتا رکر کے ان کے قبضے سے کروڑوں روپے مالیت کی منشیات پکڑی گئی۔

وفاقی دارالحکومت میں سال 2019 کے دوران سب سے زیادہ وائٹ کالر کرائم کے مقدمات چیک ڈس آنر کے ہوئے جس پر پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے لوگوں میں آگاہی کی ضرورت ہے کہ وہ چیک دیتے وقت اختیاط سے کام لیں۔

رواں سال کے دوران وفاقی پولیس کے افسران کے تقرر اور تبادلے بھی کرائم کی شرح میں کمی کرنے میں ناکام رہے۔

Azhar Thiraj

Senior Content Writer