دنیا میں جنت کی سفیر ’’ماں‘‘

غزل جاوید

دنیا میں جنت کی سفیر ’’ماں‘‘


دنیا میں ماں جیسی کوئی ہستی نہیں۔ہر چیز اور شے کا نعم البدل ہوسکتا ہے سوائے ماں کے۔ لفظ ’’ ماں ‘‘ سہ حرفی ہے اور اس لفط میں اتنی مٹھاس ہے کہ ’’ ماں ‘‘ کہنے سے دونوں لب آپس میں ملتے ہیں اور پھر ’’ ماں ‘‘ کہا جاتاہے۔ حدیث نبویﷺ ہے کہ ’’ جنت ماں کے قدموں تلے ہے‘‘ کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ ’’ ماں کے بغیر گھر قبرستان لگتا ہے‘‘ حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا کہ:یارسول اللہﷺ میرے حسن سلوک کا سب سے زیادہ حقدار کون ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا:’’ تیری ماں ‘‘ انہوں نے عرض کیا پھر کون؟ آپ ﷺ نے فرمایا:’’ تیری ماں ‘‘ پھر کون؟ آپ ﷺ نے فرمایا ’’تیری ماں ‘‘ چوتھی مرتبہ سوال کیا پھر کون؟ آپ ﷺ نے فرمایا:’تیرے والد‘‘۔ ماں ہستی ہی ایسی ہے جو دنیا کی ساری مشکلات اور تکالیف خود سہتی ہے لیکن اپنی اولاد پر آنچ نہیں آنے دیتی، انہیں اپنے پروں میں چھپا کر رکھتی ہے۔اسی لیے کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ ’’ماواں ٹھنڈیاں چھاواں‘‘ اور حقیقت بھی یہی ہے کہ ماں جیسا پیار کوئی اور رشتہ دے بھی نہیں سکتا۔

حضرت عائشہ صدیقہؓ سے روایت ہے کہ رسول ا للہﷺ نے ارشادفرمایا میں جنت گیا تو میں نے دیکھا کہ اس میں کوئی تلاوت(قرآن)پڑھ رہاہے؟ فرشتوں نے جواب دیا حارثہ بن نعمانؓ ہیں(حارثہ بن نعمانؓ اپنی ماں کی خدمت اور حسن سلوک کے حوالے سے خاص شہرت رکھتے ہیں)۔اسی طرح اویس قرنیؓ کو بھی اسلام کی تاریخ میں اطاعت ،خدمت اور حسن سلوک سے شہرت حاصل ہے۔ ماں کی شفقت،محبت ،خلوص،پیار اور ایثار ومروت کسی تعارف کی محتاج نہیں  کیونکہ ماں کی محبت وپیار بے لوث ہوتا ہے ۔ ماں کی تربیت کے حوالے سے تا ریخ میں بے شمار مثالیں ملتی ہیں۔ جن میں حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی کی والدہ کی جھوٹ نہ بولنے کی نصیحت،حضرت بابافرید گنج کی ماں کا بیٹے کو شکر کھلا کر نیک چلنی کی ترغیب دینا۔حضرت نظام ا لدین اولیا کی ماں کا سوت کات کات کرایک ولی اللہ کو پروان چڑھانا۔

گوتم بدھ نے کیا خوب کہا تھاکہ’’ساری دنیا کی امن وشانتی،پیارومحبت کاسرچشمہ بن جائے۔ اگر ہم ایک دوسرے سے محبت کا ہزارواں حصہ بھی کرلیں جوایک ماں اپنے بچے سے کرتی ہے گویوں تو دنیا کی ہر ماں کی’’ محبت‘‘’’ ممتا‘‘ مثالی ہے۔سرسید احمد خان کی والدہ کانوکر کو تھپڑمارنے پر بیٹے کو گھر سے نکال کر سڑک پر کھڑاکردینا اور مولانا محمد علی جوہر کی ماں ’’بی اماں ‘‘کا تاریخ ساز جملہ’’جان ‘‘ بیٹا خلافت پہ دے دو۔علامہ اقبال نے ماں کی یاد میں جو نظم لکھی ہے اسے کالمی کا شہ پارہ مانا جاتا ہے ۔وہ ماں کی یوں سلام پیش کرتے ہیں کہ سخت سے سخت دل کو بھی ماں کی پرنم آنکھوں سے نرم بنایا جاسکتا ہے ۔ اور نہ جانے کتنی ماؤں کی مثالیں موجود ہیں۔

نادرشاہ درانی جیسا تیروتفنگ سے کھیلنے والا جرنیل کہتا ہے ماں اور پھولوں میں مجھے کوئی فرق نظر نہیں آتا۔رئیس الامراء مولانا محمد علی جوہر نے فرمایا:’’ دنیا کی سب سے حسین شے ماں صرف ماں ہے‘‘ ماں ایک ایسا موضوعِ انتخاب جسکی تعریف لکھنے بیٹھیں تو قلم و قرطاس کی کمی آڑے آجائے۔خیالات تھک ہار کرسوجایءں مگر پھر بھی توصیف کا شاہ پارہ ترتیب نہ پاسکے۔

ماں کے لیے کوئی مخصوص دن ،مخصوص وقت ،مخصوص لمحہ مختص نہیں بلکہ ہر روز،ہر لمحہ،ہر گھڑی ماں کیساتھ گزراہوا وقت یقیناً جنت میں گزرتا ہے۔

سٹاف ممبر، یونیورسٹی آف لاہور سے جرنلزم میں گریجوایٹ، صحافی اور لکھاری ہیں۔۔۔۔