سانحہ ساہیوال:اٹھتے سوالات،بڑھتے خدشات

تحریر:اظہر تھراج

سانحہ ساہیوال:اٹھتے سوالات،بڑھتے خدشات


”میری پوتی کو لوگ کیا کہیں گے کہ یہ دہشت گرد کی بیٹی ہے؟ یہ کہ میں دہشت گرد کی ماں ہے؟ ،آپ میرے گھر آکردیکھو کیا حال ہے،آپ کھاتے ہیں،پیتے ہیں ہم صرف روتے ہیں،اب میں رات کو نہ سوتی ہوں نہ دن کو چین آتا ہے ،مجھے ڈر لگتا ہے ،رو رو کے اللہ سے ا لتجا کرتی ہوں،اللہ ان لوگوں کو ہدایت دے جنہوں نے میرے بیٹے کو مارا،کیا یہ قانون سکھاتا ہے کہ غریبوں کو جنگل میں لے جاکر ماردو،مجھے کچھ نہیں چاہئے ،برائے مہربانی میرے بیٹے کے نام سے دہشتگرد کا لیبل ہٹا دیا جائے“اس کے بولتے ہی حال میں سکوت چھا گیا،غمزدہ ماحول میں پھر وہ گویا ہوئی،”اگر میرا بیٹا دہشت گرد قرار دیا تھا تو مارا کیوں؟ اسے زندہ گرفتار کیوں نہیں کیا؟ انڈیا کے جاسوس کو زندہ گرفتار کر لیا، تو کیا میرے بیٹے کو زندہ نہیں پکڑ سکتے تھے؟ساہیوال میں سی ٹی ڈی کے ہاتھوں مارے گئے ذیشان کی والدہ کے سوالات کے جوابات سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے پاس نہ تھے،اور شاید کوئی ان سوالوں کے جواب دینے کی ہمت بھی نہ کرے۔

کیونکہ ہم بنیادی طور پر تماش بین ہیں،ڈگڈگی بجتی ہے، تماشا ہوتا ہے، تالیاں بجتی ہیں اور ہم گھروں کی راہ لیتے ہیں،مداری کے اشاروں پر رقصاں یہ جسم سوال تک نہیں پوچھتے کہ ناچنا کب تک ہے اور رقص کیسا ہے،مداری جانتا ہے کہ یہ تماشا ختم ہوا تو اس کا روزگار بھی جاتا رہے گا اور اس کی ذات بھی توجہ کی محور نہیں رہے گی۔

ہم سے قاتل کا ٹھکانہ نہیں ڈھونڈا جاتا

ہم بڑی دھوم سے بس سوگ منالیتے ہیں

ایک کے بعد ایک سانحہ آتا ہے،صف ماتم بچھتی ہے،اہلخانہ رو رو کے ہلکان ہوتے ہیں،رشتہ دار ،دوست آتے ہیں،مرنیوالے کیلئے دعا کرتے ہیں اور چلے جاتے ہیں،آج کل تو میتوں پر بھی پھول لانے کارواج بن چکا،لاشوں پر سیلفیاں لینا فیشن بن چکا،قبرستان جاتے ہیں تو ہنستے ہیں یہ نہیں سوچتے کہ ظالم یہ عبرت کی جگہ ہے تماشہ نہیں۔

ہماری آنکھوں نے بڑے بڑے سانحات دیکھے،بے گناہ مرتے دیکھے،ان پر جے آئی ٹیز بنیں،کمیشن وجود میں آئے لیکن نتائج سامنے نہیں آئے،تحقیقات کرنیوالے ادارے وقت مانگتے ہیں،اجلاس کرتے ہیں اور کئی سالوں تک یہ سلسلہ چلتا ہے اور فائل بند کردی جاتی ہے،ہربار یہی کہا جاتا ہے کہ ہم شدید مذمت کرتے ہیں زخمی ہونیوالوں کو اتنے لاکھ اور مرنے والوں کی زندگی کی قیمت اتنے لاکھ روپے۔۔۔کہا جاتا ہے ”میں قطر سے آکر ذمہ داروں کو سزا دوں گا،آپ اطمینان سے رہیں“کب تک قوم سکون میں رہے،اور کتنا سکون اور کتنا انتظار۔مر نہ جاتے گر اعتبار ہوتا! آخر حمیدہ بیگم جیسی خواتین کو اپنے سوالوں کا جواب کیوں نہیں ملتا،ایک سانحے کے بعد دوسرے سانحے کا انتظار کیوں جاتا ہے؟

ہمارے نمائندوں کا کردار دیکھو تو اس سے بھی بھیانک ہے،غمزدہ افراد کے زخموں پر مرہم رکھنے کے بجائے مذاق اڑایا جارہا ہے،سانحہ ساہیوال جیسی کئی کہانیاں ہمارے ارد گرد گھوم رہی ہیں،فرق صرف اتنا ہے کہ یہ دن کے اجالے میں ہوا ،رات ہوتی تو کس کو خبر ہوتی،صرف ایک پریس ریلیز جاری ہوتی،اخبارات میں سنگل ،ڈبل خبر لگتی ،ٹی وی پر ٹکرز چلتے اور سب بھول جاتے۔

یہاں ہر افسردہ چہرہ اپنے اندر طوفان لیے پھرتا ہے،سوال کرتی نظریں جواب ڈھونڈتی پھرتی ہیں،ووٹ لینے اوردینے والے دونوں پوچھتے پھرتے ہیں ،کہاں ہے سستا انصاف،سستی صحت اور تعلیم؟کہاں ہے وہ خوشحالی جس کا ہم نے خواب دیکھا تھا،کہا ں ہیں ہمارے مسیحا جن کیلئے ہم نے نعرے لگائے تھے؟جنہوں نے جواب دینا تھا وہ کرپشن،کرپشن پر لڑ رہے ہیں۔

جیسا کہ پہلے ہوتا ہے، اب بھی ویسا ہی ہوگا،سانحہ ساہیوال کا شور تھمتا جارہا ہے اس کے بعد تو کون میں کون۔ مرنے والے پہلے والوں کی طرح صرف ہندسے بن کے رہ جائیں گے اور قاتل معطل یا جبری ریٹائر ہو جائیں گے۔آثار بتا ر ہے ہیں کہ تحقیقاتی رپورٹ ضرور مرتب ہو گی لیکن اس کے نتائج سامنے نہیں آئینگے۔

اظہر تھراج

Senior Content Writer