عمران خان کا خواب ٹوٹ جائیگا؟


لاہور( 24نیوز )تحریک انصاف کے فاتح ہونے کے باوجود صفوں میں بے یقینی پائی جاتی ہے،پارٹی قیادت تاحال نمبرز گیم پوری کرنے میں ناکام نظر آتی ہے۔
عام انتخابات میں کامیابی کی صورت میں عمران خان کی 116 سیٹیں ہیں اور 29 مخصوص سیٹیں ملیں گی جس کے بعد ان کی 137 ووٹ بنتے ہیں اور ان کو 34 مزید درکار ہیں اور سیٹیں چھوڑنے سے 8 ووٹوں کا نقصان ہوگا جبکہ 41 ووٹ مزید درکار ہیں، مسلم لیگ ق کے 3 ووٹ رہ جائیں گے ، ایک شیخ رشید، جی ڈے اے 2 اور اگر سارے آزاد ارکان بھی اگر ان کو دیدئیے جائیں تو یہ 160 بنتے ہیں جس کے بعد ایم کیو ایم یا ایم ایم اے کی ضرورت ہوگی کیونکہ 172 ووٹوں پر وزیر اعظم کا انتخاب ہوگا۔
یہاں بات پیپلز پارٹی کی طرف جاتی دکھائی رہی ،نمبر گیم عمران خان کو آصف زرداری کی طرف دھکیل رہی ہے،نہ چاہتے ہوئے بھی ان سے ہاتھ ملانا پڑے گا،سیٹوں کے حساب سے پنجاب میں بھی تحریک انصاف کی حکومت بنتی نظر نہیں آ رہی،یہاں بھی چھوٹی پارٹیوں کے بجائے بڑی جماعتوں سے بات کرنی پڑیگی،اگر نمبر گیم پوری نہیں بھی ہوتی تو آئین نے ایک راستہ بتا دیا ہے۔

 یہ بھی پڑھیں: نواز شریف آج کل کہاں ہیں؟
آئین کے آرٹیکل کی 91 کی شق 4 کے مطابق وزیر اعظم کے الیکشن کیلئے پہلے ووٹ کاونٹ میں جیتنے والے کو 172 نمبرز پورے کرنے ہوتے ہیں ، اگر یہ نمبر پورے نہیں ہوتے تو اسی وقت دوبارہ کاونٹ کیا جاتا ہے اور دوبارہ الیکشن ہوتا ہے اور جو لوگ پہلے دو نمبر پر ہوتے ہیں ان میں اور حاضرین کی اکثریت میں سے جس کے پاس اکثریتی ووٹ ہو تو 172 کا نمبر لازمی نہیں رہتا، لہذا تحریک انصاف اکثریتی پارٹی ہے اس لئے نمبر گیم کے حوالے سے کوئی رکاوٹ عمران خان کے آڑے نہیں آ رہی،ہر صورت میں عمران خان کا وزیر اعظم بننے کا راستہ صاف ہے لیکن اگر ایک زرداری،سب پربھاری سے ہاتھ نہیں ملاتے تو ایک اقلیتی وزیر اعظم ہونگے ،صدر کے انتخاب،قانون سازی کے معاملات میں کچھ نہیں کرپائینگے۔