ڈیٹا چوری کیس،معاملہ پولیس تک پہنچ گیا

ڈیٹا چوری کیس،معاملہ پولیس تک پہنچ گیا


اسلام آباد( 24نیوز ) نادرا کے حساس ریکارڈاور ڈیٹا چوری کا معاملہ پولیس تک پہنچ گیا، سابق ڈپٹی چئیرمین سید مظفر کے خلاف درج مقدمے نے نادرا حکام کے دبنگ موقف اور حساس ڈیٹا تک رسائی نا ہونے کے دعوے کی نفی کر ڈالی۔

پاکستانی شہریت دینے والے ادارے نادرا کے حساس ریکارڈ کی چوری کا معاملہ زبان زدعام ہے، نادرا کے سابق ڈپٹی چیئرمین سید مظفر علی کی جانب سے مختلف نیوز چینلز پر ڈیٹا چوری کے الزامات پر نادرا کے چار ڈی جیز نے پریس کانفرنس کے ذریعے وضاحت کی تھی کہ نادرا کا ڈیٹا لیک یا چوری نہیں ہوسکتا، سابق ڈپٹی چئیرمین کی طرف سے تمام الزامات بے بنیاد اور جھوٹ پر مبنی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  عباسی کا پی ٹی آئی کو جھٹکا دینے کیلئے جماعت اسلامی سے رابطہ

ابھی اس وضاحت کو چند روز ہی گزرے تھے کہ نادرا حکام اپنے ریکارڈ چوری ہونے کی شکایت لے کر تھانہ سیکریٹریٹ پہنچ گئے،چیف آف سٹاف نادرا ہئڈ کوارٹر کرنل ریٹائرڈ طاہر مقصود کی جانب سے درج کروائے گئے مقدمے میں الزام لگایا گیا ہے کہ نادرا کے ایک ملازم سید مظفر جو کہ ڈپٹی چئیرمین تھا اسے ملازمت سے فارغ کردیا ہے لیکن وہ اپنے ساتھ ادارے کا سامان اور حساس سرکاری ریکارڈ چوری کرکے لے گیا ہے۔ اور نادرا کے حساس ریکارڈ کے غلط استعمال کا اندیشہ ہے۔

نادرا کی جانب سے پولیس کو ریکارڈ چوری کی شکایت نا صرف اس کے اپنے موقف کی نفی ہے بلکہ سابق ڈپٹی چیئرمین اور مختلف سیاسی جماعتوں کی جانب سے ڈیٹا لیکج کے موقف کی بھی تائید کرتی ہے،جبکہ یہ اقدام نادرا کی انٹرنل سیکﺅرٹی اور ویجیلنس کے دعووں پر بھی سوالیہ نشان ہے۔