کس کو کونسا انتخابی نشان ملا ؟ الیکشن کمیشن نے فہرست جاری کردی

کس کو کونسا انتخابی نشان ملا ؟ الیکشن کمیشن نے فہرست جاری کردی


اسلام آباد(24نیوز) عام انتخابات 2018 کے لیے امیدواروں کی حتمی فہرستیں آج ریٹرننگ افسران اور ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسران کے دفاتر میں آویزاں کی جارہی ہیں اور انتخابی نشان بھی آج جاری کیے جائیں گے۔آزاد امیدوار  کی حیثیت سے لڑنے والے  چودھری نثار کو الیکشن کمیشن نے جیب کا انتخابی نشان الاٹ کر دیا ہے۔

امیدواروں کی جانب سے سب سے پہلے کاغذات نامزدگی جمع کرائے گئے جس کے بعد اسکروٹنی کا عمل مکمل ہوا، امیدواروں کے کاغذات نامزدگی کی منظوری اور یا مسترد کیے جانے کے خلاف اپیلوں کی سماعت ہوئی۔ امیدواروں کی جانب سے کاغذات نامزدگی واپس لینے اور پارٹی ٹکٹ جمع کرانے کا عمل گزشتہ روز مکمل کیا گیا تھا جس کے دوران کئی امیدواروں نے کاغذات نامزدگی واپس لیے جن میں جاوید ہاشمی بھی شامل تھے جبکہ جنوبی پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کو ذبردست جھٹکا لگا ہے اور 5 حلقوں کے امیدواروں نے ٹکٹ واپس کرد یے۔ جن میں حلقہ این اے 193 اور پی پی 293 سے سابق ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی شیرعلی گورچانی نے مسلم لیگ ن کا ٹکٹ واپس کردیا۔

یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی کا ٹکٹ واپس لینے پر خسرو بختیار کا اہم بیان سامنے آگیا

  الیکشن کمیشن شام 4 بجے تک انتخابی نشانات الاٹ کرے گی۔ حتمی فہرستیں اردو حروف تہجی کی ترتیب سے فارم نمبر33 پر جاری کی جائیں گی جبکہ امیدواروں کے نام شناختی کارڈ کے مطابق درج کیے جائیں گے۔الیکشن کمیشن کے مطابق حتمی فہرستیں لگنے کے بعد امیدوار یکم جولائی سے 23 جولائی تک انتخابی مہم چلا سکیں گے جبکہ انتخابی عمل شروع ہونے سے 48 گھنٹے پہلے   امیدواروں کو انتخابی مہم ختم کرنا ہوگی۔

واضح رہے کہ عام انتخابات 2018 کے لیے پولنگ کا وقت ایک گھنٹہ بڑھا دیا گیا اور اب ووٹرز صبح 8 بجے سے شام 6 بجے تک ووٹ کاسٹ کرسکیں گے۔

پڑھنا مت بھولیں: غیر سیاسی بشریٰ بی بی کی پہلی سیاسی انٹری

الیکشن کمیشن نے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 59 اور پی پی دس سے چودھری نثار علی خان کو  جیب کا انتخابی نشان الاٹ کر دیا ہے۔ جبکہ سابق ن لیگی رہنما زعیم قادری نے ریٹرننگ افسروں سے انتخابی نشان سورج مکھی کا پھول الاٹ کرنے کی اپیل کی ہے۔

اسلام آباد سے عام انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواروں کی فہرستیں آویزاں کردی گئیں۔ قومی اسمبلی کے 3 حلقوں پر 76 امیدوار میدان میں ہوں گے جب کہ این اے 53 سے سب سے زیادہ 36 امیدوار آمنے سامنے ہوں گے اور اسی حلقے میں سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان مدمقابل ہوں گے۔وفاقی دارالحکومت کے حلقہ این اے 54 سے 28 امیدوار میدان میں ہوں گے جہاں اسد عمر کا مقابلہ (ن) لیگ کے انجم عقیل سے ہوگا جب کہ پییلز پارٹی کے عمران اشرف اسی حلقے سے میدان میں ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں: حلقہ این اے 246 ،مسائل کا رونا روتے عوام

این اے 54 سے مسلم لیگ (ن) کے ناراض رہنما عبدالحفیظ ٹیپو بطور آزاد امیدار انتخاب میں حصہ لے رہے ہیں۔اسلام آباد سے مسلم لیگ (ن) کے طارق فضل چوہدری، پیپلزپارٹی کے افضل کھوکھر اور تحریک انصاف کے خرم نواز بھی آمنے سامنے ہوں گے۔اس کے علاوہ حلقہ این اے 52 میں سب سے کم امیدوار سامنے آئے ہیں جہاں 12 امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہوگا۔

 

 

 

وقار نیازی

سٹاف ممبر، یونیورسٹی آف لاہور سے جرنلزم میں گریجوایٹ، صحافی اور لکھاری ہیں۔۔۔۔