پی آئی اے کو 10 سال میں 280 ارب کا نقصان ہوا: چیف جسٹس  


اسلام آباد (24 نیوز) سپریم کورٹ آف پاکستان میں پی آئی اے کے اثاثوں کی فروخت سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی،  چیف جسٹس کا  آڈیٹر جنرل کو دس ہفتے میں مکمل آڈٹ کرنے کا حکم ، ٹرمز آف ریفرنس میں ترمیم کیلئے دس روز کی مہلت بھی مل گئی۔

 تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ آف پاکستان میں پی آئی اے اثاثوں کی فروخت سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔  چیف جسٹس کا آڈیٹرجنرل کو 10 ہفتےمیں آڈٹ کرنےکا حکم۔ اس موقع پرچیف جسٹس کا کہنا تھا کہ موجودہ ٹی او آرزجامع ہیں، لیکن ترمیم کی جاسکتی ہے۔ چیف جسٹس نے ایم ڈی پی آئی اے کو آڈیٹر جنرل سے مکمل تعاون کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ شجاعت عظیم آڈیٹرکے طلب کرنے پر پیش ہوں گے،  پیش نہ ہونے کی صورت میں شجاعت عظیم کی جائیداد ضبط کر لی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں:ڈیمز کی تعمیر،چیف جسٹس نے کروڑوں پاکستانیوں کو خوشخبری سنادی

ایم ڈی پی آئی اےتمام متعلقہ دستاویزات آڈیٹر کودینےکے پابند ہونگے۔ وکیل مرزا محمودکو چیف جسٹس نےبات کرنےسےروک دیا۔ جس پروکیل مرزا محمود نے کا کہنا تھا کہ مجھے ایک منٹ بولنے دیں، شجاعت عظیم کی بات نہیں کروں گا۔ کل آمدن کا 23 فیصد تنخواہوں میں چلا جاتا ہے۔ چیف جسٹس نے ریماکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کو اس موقع پر یہ باتیں نہیں کرنی چاہئے۔ چیف جسٹس نے کہا آپ کامقصد اپنی پوزیشن پبلک میں کلیئرکرنا ہے۔ میں آپ کوایک سیکنڈبات کرنے کی اجازت نہیں دوں گا۔

چیف جسٹس نے ریماکس دیتے ہوئے کہا  پی آئی اے کا کل خسارہ 360 ارب ہے۔ دس سال میں 280 ارب روپے کا نقصان ہوا۔ نقصان کی کوئی وجہ اوراس کا کوئی ذمہ دار بھی ہوگا۔ آج کی سماعت کا مقصد آڈٹ سے نقصان کا تعین کرنا ہے۔

شازیہ بشیر

   Shazia Bashir   Edito