شریف خاندان کے وکیل، واجد ضیا میں تلخ کلامی، کمرہ عدالت میں گرما گرمی


اسلام آباد(24نیوز) شریف خاندان کے خلاف نیب ریفرنس کی سماعت کے دوران آج کمرہ عدالت میں خاصی گرما گرمی رہی، نیب کے اسٹار گواہ واجد ضیا پر ہوئی سوالوں کی بوچھاڑ، وکیل صفائی، واجد ضیا اور ڈپٹی پراسیکیوٹر نیب میں تلخ کلامی بھی ہوئی۔

نوازشریف کے وکیل خواجہ حارث کی چوتھی سماعت پر بھی گواہ واجد ضیاء پر جرح کی ، وکیل نے جیری فری مین کے کردار سے متعلق پوچھا تو واجد ضیاء نے بتایا کہ شریف خاندان کے جواب میں جیری فری مین کا خط موجود تھا جس نے ٹرسٹ ڈیڈ درست ہونے کی تصدیق کی تھی جے آئی ٹی نے جیری فری مین سے براہراست رابطہ نہیں کیا بلکہ سولیسٹرکی خدمات حاصل کی تھیں ۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم نے سینیٹ کی بےعزتی کی ہے

وکیل خواجہ حارث نے گلف اسٹیل مل سے متعلق جرح کرتے ہوئے 1978 کے شیئرزسیل کنٹریکٹ کی تصدیق کرانے کا پوچھا تو واجد ضیاء نے بتایا کہ تصدیق نہیں کرائی، جے آئی ٹی نے معاہدے کو درست تسلیم کیا، وکیل نے حالی سٹیل مل کے مالک اورگواہ سے رابطہ اور گلف اسٹیل مل کی فروخت رقم کا پوچھا، توگواہ نے رابطہ سے انکار کیا، کہا کہ 75 فیصد شیئرزکی رقم دوکروڑ دس لاکھ درہم تھی ، وکیل نے جے آئی ٹی والیم کے دستاویزات سے متعلق پوچھا توواجد ضیاء نے بتایا کہ سپریم کورٹ کی مہروالی کوئی دستاویز نہیں۔

اہم خبر: نواز شریف کے الزامات ،چیف جسٹس کی صفائیاں

سماعت کے دوران خواجہ حارث ، واجد ضیاء اور ڈپٹی پراسیکیورٹرنیب سردار مظفر عباسی کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا، عدالت نے سماعت پیر تک متلوی کردی