حکومت کا بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کا نام تبدیل کرنے کا فیصلہ



کراچی(24نیوز) پی ٹی آئی کی حکومت بھٹوکی بیٹی سے خوف کھانے لگے۔وزیراعظم کی جانب سے بےنظیرانکم اسپورٹ پروگرام کانام بدلنے کےفیصلے کےخلاف جیالےرہنما بھی بھڑک اٹھے۔ حکومت کے اس اقدام کوکڑی تنقیدکانشانہ بناتے ہوئے فیصلے کےخلاف مزاحمت کاعندیہ دےدیا۔

نئےپاکستان میں سیاسی انتقام کی بدترین مثال۔وزیراعظم نےبے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کانام تبدیل کرنےکاحکم دیدیا۔ وزیراعظم نےگھوٹکی میں جلسے کے بعد گوہرپیلس میں سیاسی رہنماؤں کے ساتھ بیٹھک لگائی۔تو وہاں موجود پیپلزپارٹی اوربی بی شہید کےنام سے خوف کھانے والے اپنےاوچھے پن سے باز نہ آئے اوروزیراعظم سے بےنظیرانکم اسپورٹ پروگرام کانام بدلنےکامطالبہ کردیا لیکن یہ کیاوزیراعظم تو بی بی سے نفرت میں ان سے بھی دوہاتھ آگے نکل گئے۔

تبدیلی سرکارکےاس منفی اقدام پرجیالےبھی بھڑک اٹھے۔جیالے رہنما مرتضیٰ وہاب کاکہناتھا خود کی کارکردگی نہیں اس لئے دوسروں کے کام بند کئے جارہے ہیں۔بینظیر صرف پیپلزپارٹی نہیں پورے پاکستان کا فخر تھیں۔

سندھ کےصوبائی وزیرسعیدغنی بولے کہ شہید بی بی ایک نظریہ کا نام ہے۔شہید بی بی اور بھٹو خاندان پاکستان کے عوام کے دلوں پر راج کرتا ہے۔

رہنماپیپلزپارٹی خورشیدشاہ نےبھی سخت ردعمل دےدیا۔کہتے ہیں سلیکٹیڈ وزیر اعظم سے اسی طرح کے کاموں کی ہی توقع کی جا سکتی ہے۔بے نظیر اِنکم سپورٹ پروگرام سے شہید بی بی کے نام کی تبدیلی کےخلاف مزاحمت کرینگے۔

سٹاف ممبر، یونیورسٹی آف لاہور سے جرنلزم میں گریجوایٹ، صحافی اور لکھاری ہیں۔۔۔۔