بچوں سے زیادتی، آگاہی مہم کا حصہ بنیئے!

مناظرعلی

بچوں سے زیادتی، آگاہی مہم کا حصہ بنیئے!


ویسے توانسان اپنے روزمرہ معاملات میں نجانے کتنے گناہ کرتاہے جنہیں مذہب میں گناہ صغیرہ کہاجاتاہے جن کے بارے میں یہی سناہے کہ نیکیاں صغیرہ گناہوں کومعاف کرانے کاسبب بنتی ہیں مگرگناہ کبیرہ یعنی بڑے گناہ اللہ تعالیٰ کے حضورسجدہ ریزہوکر گڑگڑاکرمعافی مانگنے کی صورت میں معاف ہوتے ہیں وہ بھی خدا کی مرضی پرمنحصرہے کہ وہ اپنے بندے کومعاف کرتاہے یاپھراس کی سزا روزمحشرہی ملے گی،گناہ صغیرہ ہویاپھرکبیرہ انسان کاضمیراسے اس برے عمل کے بعد ملامت ضرورکرتاہے،انسان کواحساس ندامت ہوتاہے اوروہ کوشش کرتاہے کہ آئندہ اس سے بچے۔۔مگرکچھ شرمناک عمل ایسے بھی ہیں کہ جن کاکرناتودرکنارسوچ کرہی انسان پرکپکپی طاری ہوجاتی ہے،یعنی غیرفطری برے کام۔۔تاریخ آدم کاجائزہ لینے کے لیے ورق گردانی کریں توآ پ کو کوئی بھی قوم ایسی نظرنہیں آئے گی کہ جوصرف نیکیاں ہی کرتی ہو،ان سے برے کام سرزدنہ ہوتے ہوں۔جیساکہ ہم عام گفتگو میں بھی استعمال کرتے ہیں کہ انسان خطاکاپتلہ ہے،شایداس وجہ سے بھی کہ حضرت آدم کوبھی ایک بھول کی وجہ سے ہی جنت سے نکالاگیا،چاہے یہ معاملہ بالکل مختلف ہے مگراس سے یہ نتیجہ اخدکیاجاسکتاہے کہ انسان سے چھوٹی موٹی غلطیاں ہوجاتی ہیں اوربھولے سے کچھ ایسے عمل ہوجاتے ہیں کہ جس سے خدا راضی نہیں ہوتا،پھرخدا سے رجوع کرنے سے وہ ذات معاف بھی فرمادیتی ہے۔۔مگرمیں یہاں اس گناہ کاذکرکرنے جارہاہوں کہ جس کے بعدمیری نظرمیں توانسان خودکوبھی شاید کبھی معاف نہیں کرپاتاہوگا۔۔وہ کیسی کیفیت ہوگی جب انسان کی انسانیت ختم ہوجاتی ہے اوروہ انسان سے درندہ بن جاتاہے اوراس سے ایساشیطانی عمل ہوجاتاہے کہ پوری انسانیت کانپ اٹھتی ہے۔۔یہ گناہ ہے کمسن بچوں سے زیادتی۔۔ اوربچے بھی وہ کہ ابھی جنہیں منہ میں لقمہ ڈالنے کابھی پوری طرح سلیقہ نہیں ہوتا،انہیں صرف خوشیوں کاپتہ ہوتاہے،انہیں کھیل کود کر،ہنسی خوشی دن گزارنے کاشوق ہوتاہے،انہیں یہ شعور نہیں ہوتا کہ نیکی کیاہے اورگناہ کیا۔یہ وہ عمرہوتی ہے جب میٹھا کھانے کوزیادہ دل کرتاہے،تھوڑی سی مرچ زیادہ ہوتوآنکھیں آنسوؤں سے بھرآتی ہیں۔پھولوں جیسی مسکراہٹ،کلیوں سی نزاکت،یہ زندگی کاوہ انمول اوریادگار دور ہوتاہے کہ انسان جوان اوربوڑھاہوکربھی بچہ ہونے کی خواہش رکھتاہے۔۔یہ ایک خوبصورت خواہش ہوتی ہے یہ الگ بات ہے کہ یہ پوری نہیں ہوتی اورکچھ درندہ صفت لوگ ایسے بھی ہیں کہ جونفسانی خواہشات کے سرکش گھوڑے پرسوارہوکرسب کچھ بھول جاتے ہیں،خدا کوبھول جاتے ہیں،خدا کے عذاب کوبھول جاتے ہیں اوردرندگی اورشیطانی حدیں بھی عبورکرجاتے ہیں۔۔اگرآپ بچوں سے زیادتی کے کیسز سرچ کریں توسوشل میڈیاکے پیجزاوراخبارات کے صفحات بھرے پڑے ہیں اور چندسالوں سے اس میں خوفناک حدتک اضافہ ہواہے۔۔

گزشتہ سال بچوں کے جنسی استحصال کیخلاف کام کرنے والی ایک غیرسرکاری تنظیم"ساحل"کی رپورٹ خاصی وائرل ہوئی تھی جس میں انہوں نے انکشاف کیاتھا کہ پاکستان میں روزانہ اوسطا نوسے زائد بچے جنسی تشددکاشکارہوتے ہیں۔انہوں نے دوہزارسترہ کے اعدادوشماربھی لکھے جن کے مطابق ایک سال کے دوران3445بچوں کوجنسی زیادتی کانشانہ بنایاگیا اوریہ تعداد2016میں4139بتائی گئی۔

اس سے ملتی جلتی رپورٹ ہی وزارت انسانی حقوق نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کودی تھی جس پرایک اجلاس ہواجس میں یہ تعدادتفصیل کیساتھ بتائی گئی۔اجلاس میں بتایاگیاکہ ملک بھرمیں3ہزار445زیادتی کے کیسزرپورٹ ہوئے جن میں2ہزار77بچیاں جب کہ ایک ہزار368کیسزکمسن بچوں کیساتھ پیش آئے۔۔زیادتی کاشکاربچوں میں بچیوں کاتناسب60فیصدبتایاگیا۔اسی اجلاس میں یہ بھی پتہ چلاکہ سب سے زیادہ کیسزصوبہ پنجاب میں پیش آئے۔

اسی تنظیم کی حالیہ رپورٹ جو انہوں نے رواں سال جاری کی ہے اس میں2018کاڈیٹاظاہرکیاگیاجس کے مطابق یہ تعدادگزشتہ سالوں کی نسبت مزیدبڑھ گئی ہے۔رپورٹ کے مطابق جنسی تشددکے واقعات میں گیارہ فیصداضافہ ہواہے اورملک میں روزانہ چھ سے پندرہ سال عمرکے دس سے زائدبچے جنسی تشددکاشکارہوتے ہیں۔اسلام آباد،آزادکشمیر،گلگت بلتستان سے بچوں پرجنسی تشددکے کل3832واقعات رپورٹ ہوئے اوراسی عرصے کے دوران قتل کیے گئے بچوں کی تعداد92بتائی گئی ہے۔

یہ سلسلہ یہاں تک رکانہیں،ہر روزنئے دلخراش واقعات ہورہے ہیں جنہیں سن کرانسان کاکلیجہ منہ کوآتاہے۔قصورمیں بچوں کیساتھ زیادتی کے یکے بعددیگرےبے شمارکیسزکاذکر کریں یاپھرننھی زینب پرڈھائی جانے والی قیامت کی بات کریں،کس ایک واقعہ کوکم اورکسے زیادہ افسوسناک قراردیں۔

اگرہم ننھی فرشتہ کیساتھ پیش آنے والے حالیہ افسوسناک واقعہ کاہی تصورکرلیں تودل خون کے آنسو رونے لگتاہے۔ٹی وی پراس حوالے سے چلنے والی خبریں بے ساختہ آنسورواں کردیتی ہیں۔فرشتہ کے کیس میں بھی بتایاجاتاہے کہ وفاقی پولیس کے ایس ایچ اوشہزادٹاؤن نے نہ صرف اندراج مقدمہ میں سستی دکھائی بلکہ زخموں سے چور ورثاسے ہی نازیباالفاظ استعمال کیے،شایدپولیس اس واقعہ کوبھی سینکڑوں دیگرواقعات کی طرح دبادیتی مگرورثاء نے اہل علاقہ سمیت احتجاج کیاتوپھربات میڈیااورسوشل میڈیاپرآئی ۔یوں اعلیٰ افسران حرکت میں آگئے،پھرحسب معمول ایس ایچ اوتبدیل کرکے دوکمیٹیاں بنادیں اورکچھ لوگ پکڑکرتفتیش کاعمل شروع کردیا۔

ابھی میرابلاگ تکمیل کے آخری مراحل میں ہی تھا کہ اوکاڑہ سے میرے ایک فیس بک فرینڈنے ایک پوسٹ اپلوڈ کی جس میں ایک پھول سے بچے کی تصویرتھی،جسے دیکھتے ہی کسی بھی درددل رکھنے والے انسان کی آنکھوں سے آنسو رواں ہوجائیں،اس کیساتھ ایک انسان نمادرندے کی تصویر اورتھانہ کینٹ اوکاڑہ کی ابتدائی رپورٹ کاعکس اٹیچ کیاگیا،مجھے اپنی آنکھوں پریقین نہیں آرہاتھا کہ ایک اڑھائی سالہ معصوم کیساتھ بھلایہ کیسے ممکن ہے کہ کوئی جانوربھی براسلوک کرےمگرانسان کی شکل میں اس بھیڑیئے نے نجانے کیوں درندگی کی بھی آخری حدیں پھلانگ دیں۔اسے شیطانیت کاوہ کون سادرجہ دیں کہ جس پروہ پورا اترتاہو ، جسے ذرابھی شرم نہیں آئی کہ وہ کرکیارہاہے۔اس سے پہلے اسے موت کیوں نہیں آگئی؟مگرافسوس ایسے مجرموں کے ان اعمال کیساتھ ان متعلقہ پولیس کے ذمہ داروں پربھی ہوتاہے جوایسے بے شمارواقعات کے ذمہ داروں کوکیفرکردارتک پہنچانے میں اپناصحیح معنوں میں کردارادانہیں کرتے،جس طرح یہ برائی معاشرے میں جڑیں پکڑرہی ہے جہاں اس کے دیگربہت سے ذمہ دارہیں وہی متعلقہ ادارے بھی اتنے ہی ذمہ دارہیں جنہیں قانون کے آہنی ہاتھوں سے اسے کچلنے کی ضرورت ہے۔۔یادرکھیں۔نبی آخری الزمان ﷺسے پہلے جس قوم نے بھی گناہوں کی حدیں عبورکیں وہ صفحہ ہستی سے مٹ گئی،انہیں نشان عبرت بنادیاگیا،اب بھی صورتحال انتہائی خوفناک ہے،،اگرپولیس سمیت دیگراداروں اورمعاشرے کے افرادنے مل کر اس کابروقت حل نہ سوچاتواس کے بھیانک نتائج ہمیں بھی بھگتناپڑیں گے،آپ قوم لوط کے بارے میں پڑھیں کہ کس طرح خدا کی ذات نے انہیں نیست ونابودکردیا،اگراس دورمیں ہونے والے شرمناک اعمال خاص طورپربچوں سے زیادتی کے جرائم اوران کی نوعیت کاجائزہ لیں تواب صورتحال قوم لوط سے بھی کہیں آگے بڑھ چکی ہے۔اگرابھی تک خدا نے عذاب نازل نہیں کیاتویہ مت سمجھیں کہ وہ ذات دیکھ نہیں رہی،یقینا اس کاانجام بھی ناقابل بیان ہوسکتاہے۔

مقصدیہ نہیں کہ ان شرمناک واقعات کودوبارہ لکھ کرہم ایک بارپھرمتاثرہ خاندانوں کے زخموں کوتازہ کریں،ہمیں اب اپنی اپنی ذمہ داری کااحساس کرتے ہوئے معاشر ے سے اس برائی کوختم کرنے میں اپنااپناکرداراداکرنے کی ضرورت ہے،ہمیں سب کواس کی شروعات خود سے کرناہوگی،اپنی اپنی ذات کاجائزہ لے کرہمیں خودایک اچھاانسان،ایک اچھاشہری اورایک ذمہ دارفردبننے کی ضرورت ہے۔

جنسی رویوں میں اس خوفناک تبدیلی کے پیچھے کارفرماعوامل کاپتہ لگاناہوگا اورپھران کے سدباب کیلئے اٹھ کھڑے ہوناہوگا،یہ صرف لکھنے یا کہنے کی بات نہیں،اس پرباقاعدہ ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے،خواہ وہ تحقیق ہو،اعدادوشمارہوں یاکچھ بھی کہ جس سے ہم اس بگاڑکی وجوہات جان سکیں اورپھراس کاخاتمہ کرسکیں۔۔۔یادرکھیں کہ ننھی زینب قصورکے ایک بوڑھے شہری کی ہی بیٹی نہیں تھی،فرشتہ پہاڑوں میں رہنے والے کسی انسان کی ہی لخت جگرنہیں تھی اورملک کے طول وعرض میں زیادتی کاشکارہونے والے بچے کسی اورکے نہیں،ہم سب کے بچے ہیں،اگرآج کسی کے بچے کیساتھ زیادتی ہوئی ہے توکل خدانخواستہ یہ دکھ آپ کوبھی پہنچ سکتاہے کیوں کہ درندوں کواپنی درندگی سے غرض ہے،انہیں یہ احساس نہیں کہ ان کاشکارہونے والابچہ کس کاہے لہذا وقت سے پہلے ہوش میں آناہوگاکہیں دیرنہ ہوجائے۔خود کوسمجھائیں،دوستوں کوسمجھائیں،رشتے داروں کوسمجھائیں،شاگردوں کوسمجھائیں،اپنے بچوں کوشعوردیں،اپنے محلے داروں کوآگاہی دیں اورسوشل میڈیاپرفضول پوسٹوں کی بجائے آگاہی کیلئے ایک منظم مہم شروع کردیں۔ایسی مہم جس سے ہمارے بچے محفوظ ہوسکٰیں،ایسی مہم جس سے درندگی کاخاتمہ ہوسکے۔۔اگرآپ سمجھتے ہیں کہ اب اس کی ضرورت ہے توپھردیرمت کریں۔آپ اس مہم کاآغازاس بلاگ کوزیادہ سے زیادہ شیئرکرکےکرسکتے ہیں۔

بلاگر کاتعلق پنجاب کے ضلع حافظ آبادسے ہے اوروہ گزشتہ ڈیڑھ دہائی سے پرنٹ والیکٹرانک میڈیاسےمنسلک ہیں، آج کل سٹی نیوزنیٹ ورک میں خدمات سرانجام دے رہے ہیں اور24نیوزکیلئے مستقل بلاگ لکھتے ہیں، انہوں نے"کلیدصحافت"کے نام سے صحافت کے مبتدی طلباء کیلئے ایک کتاب بھی لکھی ہے۔