160ارب روپے کے اثاثے کیسے بنے؟آغا سراج درانی کیخلاف ریفرنس دائر

160ارب روپے کے اثاثے کیسے بنے؟آغا سراج درانی کیخلاف ریفرنس دائر


کراچی (24نیوز)نیب حکام نے آمدن سے زائد اثاثوں سے متعلق اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی کے خلاف 13 فولڈرز پر مشتمل کرپشن ریفرنس پیش کردیا۔ عدالت نے وکیل صفائی کو نقول فراہم کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی ۔

کراچی کی احتساب عدالت میں آمدن سے زائد اثاثے بنانے سے متعلق اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی کے خلاف سماعت ہوئی۔ جیل حکام نے سخت سیکیورٹی میں آغا سراج درانی کو پیش کیا۔ نِیب کے تفتیشی افسر نے آغا سراج درانی کیخلاف ریفرنس عدالت میں پیش کردیا۔ آغا سراج درانی کے وکیل نے موقف اپنایا کہ ہماری ایک اور درخواست ابھی تک زیر التوا ہے۔ یہ ریفرنس قابل سماعت نہیں ہے۔ اس ریفرنس کو قبول کرنے سے پہلے ہماری درخواست سن لی جائے۔ 

عدالت نے ریمارکس دیے کہ یہ ریفرنس قابل سماعت ہے یا نہیں؟ اسکا فیصلہ کرنا عدالت کا کام ہے۔ آغا سراج درانی کے وکیل نے موقف اپنایا کہ اس ریفرنس کی نقول فراہم کی جائیں۔ عدالت نے وکیل صفائی کو ریفرنس کی نقول فراہم کرتے ہوئے سماعت 17 جون تک ملتوی کردی۔ 

آغا سراج درانی کیخلاف دائر ریفرنس 13 فولڈرز پرمشتمل ہے۔ ریفرنس میں آغا سراج درانی سمیت 20 ملزمان کو نامزد کیا گیا ہے۔ نیب ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزمان پر ایک ارب 60 کروڑ روپے کی کرپشن کا الزام ہے۔ ریفرنس میں آغا سراج درانی ،اہل خانہ اور ملازمین کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔ ریفرنس ابھی باقاعدہ سماعت کے لئے منظور نہیں کیا گیا۔ عدالت میں ابھی ریفرنس کی دس نقول فراہم کی گئیں۔ 

سماعت کے بعد میڈیا سے غیر رسمی گفتگو میں آغا سراج درانی نے کہا کہ 3 مہینے سے اسکا انتظار کر رہے تھے۔ اب جا کر ریفرنس فائل ہوا ہے، اسکا بھرپور دفاع کریں گے۔

ایک سوال پر آغا سراج نے کہا کہ حکومت ہے کدھر؟ آپ کس حکومت کی بات کر رہے ہیں؟ یہ حکومت 50 لوگوں کو سنبھال نہیں سکتی۔ اس حکومت کو جیالوں کا علم نہیں ہے۔ جیالوں نے ضیا کے مارشل لا اور مشرف جیسے آمر کا سامنا کیا ہے۔ 

اظہر تھراج

Senior Content Writer