ہزاروں بوسنیائی مسلمانوں کے قاتل نے بھری عدالت میں خودکشی کرلی

ہزاروں بوسنیائی مسلمانوں کے قاتل نے بھری عدالت میں خودکشی کرلی


دی ہیگ (24 نیوز): بوسنیا میں ہزاروں مسلمانوں کے قتل اور زیادتی پر جنگی جرائم کے مرتکب ٹھہرائے جانے والے کروشیا کے سابق وزیر دفاع اور فوجی کمانڈر نے عدالت میں سماعت کے دوران زہر پی کر خود کشی کرلی۔

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق دی ہیگ میں قائم عالمی فوجداری ٹریبونل برائے سابق یوگوسلاویہ میں بوسنیائی جنگ کے حوالے سے مقدمے کی سماعت جاری تھی کہ کروشیا کے سابق وزیر دفاع اور کروشین ڈیفنس کونسل کے کمانڈر 72 سالہ سولبوڈان پرالجاک نے سزا کے خلاف اپنی اپیل مسترد ہونے پر شیشے کی بوتل میں موجود کوئی مواد پی لیا۔ یہ دیکھ کر جج نے فوری طور پر عدالتی کارروائی روک دی اور ایمبولنس منگوانے کی ہدایات جاری کیں۔

سولبوڈان نے جج کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میں نے زہر پی لیا ہے، میں جنگی جرائم کا مرتکب نہیں، میں اس فیصلے کو مسترد کر رہا ہوں۔ ججز نے یہ سن کر کہا کہ وہ کارروائی روک رہے ہیں جس کے بعد سولبوڈان کو ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں انہیں مردہ قرار دیا گیا۔

بوسنیا کی جنگ کے دوران ہونے والے قتل عام اور دیگر مظام کی بنیاد پر سولبوڈان سمیت 6 سابق سیاسی و عسکری حکام کو 2013ء میں 20 برس قید کی سزا سنائی گئی تھی جس کے خلاف انہوں نے اپیل دائر کر رکھی تھی تاہم اپیل مسترد ہونے کا سنتے ہی انہوں نے زہر پی لیا۔

 سولبوڈان پر الزامات تھے کہ انہوں نے 1993ء کے موسم گرما کے دوران یہ اطلاع ملنے کے باوجود کہ فوج بوسنیا کے علاقے پروزور میں موجود مسلمانوں کا محاصرہ کر رہی ہے اور قتل عام کا خدشہ ہے، انہوں نے اسے روکنے کے لیے کوئی اقدامات نہیں کیے۔

ان پر یہ الزام بھی تھا کہ علاقے میں قتل عام، عالمی اداروں کے ارکان پر حملوں، تاریخی عمارتوں اور مساجد پر حملوں کی اطلاعات ہونے کے باوجود انہوں نے اسے روکنے کے لیے کوئی اقدامات نہیں کیے۔