کیپٹن (ر) صفدر اسلام آباد ہائیکورٹ میں طلب


اسلام آباد (24نیوز)  اسلام آباد ہائیکورٹ نے کیپٹن صفدر کو ضمانت پر رہائی دینے کے احتساب عدالت کے فیصلے کے خلاف نیب کی درخواست پر کیپٹن صفدر کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 14 دسمبر یو عدالت پیش ہونے کا حکم دے دیا۔

تفصیلات کے مطابق ایون فیلڈ ریفرنس میں کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر کی ضمانت پر رہائی کے خلاف نیب کی درخواست پر سماعت اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے کی, نیب کے ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل عدالت میں پیش ہوئے اور موقف اختیار کیا کہ گرفتاری کے بعد ملزم کو ضمانت پر رہا کرنا ٹرائل کورٹ کا اختیار نہیں,اس پر جسٹس محسن اختر کیانی نے استفسار کیا کہ کیا نیب کو ملزم کا جسمانی ریمانڈ چاہیئے؟ آپ نے ریفرنس فائل ہونے سے لیکر اب تک ملزم کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا نہیں کی۔

عدالت نے عدم پیشی پر ملزم کے پہلے قابل ضمانت اور پھر ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کیے,ملزم کی پیشی اور پھر مچلکے جمع کرانے پر رہائی ٹرائل کورٹ نے رہائی دی, بندہ پیش ہو گیا، مقصد پورا ہو گیا تو ٹرائل کورٹ نے کاروائی کو آگے بڑھاتے ہوئے ضمانت منظور کی, ابھی تو ملزم باقاعدگی سے پیش ہو رہا ہے, تو اس پر نیب پراسیکیوٹر جنرل نے موقف اختیار کیا کہ احتساب عدالت نے ہائیکورٹ کا اختیار استعمال کیا, ملزم کو ناقابل ضمانت وارنٹ پر گرفتار کیا گیا۔ گرفتاری کے بعد ٹرائل کورٹ ضمانت منظور نہیں کر سکتی۔ ٹرائل کورٹ کو ملزم کو جیل بھیجنا چاہیے تھا۔

نیب پراسیکیوٹر جنرل نے مزید کہا کہ ملزم کو یا متعلقہ فورم سے ضمانت قبل از گرفتاری حاصل کرنی چاہیئے تھی یا جیل جانے کے بعد باقاعدہ ضمانت کی درخواست دائر کرنی چاہیئے تھی۔ ضمانت منظور کرنے کا ٹرائل کورٹ کا فیصلہ غیر قانونی ہے, احتساب عدالت نے ایک لحاظ سے آرٹیکل 199 کے تحت کاروائی کی, انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ احتساب عدالت کیپٹن صفدر کو ضمانت پر رہائی دینے کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا جائے۔

عدالت نے دلائل سننے کے بعد کیپٹن صفدر کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 14 دسمبر کو عدالت پیش ہونے کا حکم دیتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔