علیمہ خان کی بیرون ملک جائیداد،لینڈ ریونیو اور ایف بی آر کے بیان میں تضاد

علیمہ خان کی بیرون ملک جائیداد،لینڈ ریونیو اور ایف بی آر کے بیان میں تضاد


اسلام آباد( 24نیوز ) سپریم کورٹ میں بیرون ملک پاکستانیوں کی جائیدادوں پرازخود نوٹس کی سماعت میں وزیراعظم عمران خان کی بہن علیمہ خان کے جائیداد کا تذکرہ بھی کیا گیا، چیئرمین ایف بی آرنے کہا ابھی تک باضابطہ کوئی تصدیق نہیں ہوئی،ممبران لینڈ ریونیونے علیمہ خان کی بیرون ملک جائیداد کی تصدیق کی۔

چیف جسٹس کی سربراہی میں3رکنی بنچ نے بیرون ملک پاکستانیوں کی جائیدادوں پرازخود نوٹس کی سماعت کی۔ممبرٹیکس ایف بی آر نے عدالت کوبتایا ٹیکس ریکارڈ کی معلومات نہیں دے سکتے، ٹیکس ریکارڈ کی معلومات صیغہ رازمیں رکھنی ہیں تاہم علیمہ خان نے ٹیکس ایمنسٹی سے فائدہ اٹھایا ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے عدالت نے 20 لوگوں سے متعلق تحقیقات کا کہا ایف بی آرنے پورے پاکستان کونوٹس جاری کردیا،چیف جسٹس نے چیئرمین ایف بی آرسے پوچھا کہ کیاعلیمہ خان کی بیرون ملک کوئی جائیداد ہے؟ کیا دبئی میں کوئی جائیداد ہے؟ کیا ایمنسٹی اسکیم میں بیرونی ملک جائیداد ظاہرکی؟ اتنے روزسے علیمہ خان کی جائیداد سے متعلق معاملہ ہائی لائیٹ ہورہا ہے ۔

چیئرمین ایف بی آرنے بتایاکہ ابھی تک باضابطہ اس حوالے سے کوئی تصدیق نہیں ہوئی اگرعلیمہ خان نے ایمنسٹی سکیم کی جائیداد ظاہرکی تووہ معاملہ خفیہ ہے، عدالت کے حکم پرایمنسٹی سکیم کا ریکارڈ پیش کردیں گے۔ جسٹس اعجاز الاحسن بولے کہ چیف جسٹس پوچھ رہے ہیں تویہ بات عدالت کو کیوں نہیں بتا رہے۔

ممبران لینڈ ریونیو ایف بی آرنے تصدیق کی کہ علیمہ خان کی بیرون ملک جائیداد ہے، چیف جسٹس کا ممبران لینڈ ریونیوسے مکالمہ کرتے کہاکہ کیا علیمہ خان والی جائیداد آپ کے نام ہے؟آپ کیوں باربارخفیہ پراپرٹی کی بات کررہے ہیں۔ علیمہ خان کی جائیداد کی سربمہر تفصیلات فراہم کریں۔ خود تفصیلات کا جائزہ لیں گے۔ عدالت نے علیمہ خان کی جائیداد کے حوالے سے چیئرمین ایف بی آرسے سربمہر رپورٹ طلب کرلی۔