لیڈر بننا ہے تو شہید بھٹو سے سیکھو جو پھانسی پر جھول گیا: بلاول بھٹو


24نیوز : بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے ذوالفقار علی بھٹو نے آج کے دن سیاسی تاریخ کی بنیاد رکھی، بھٹو کی تحریک کے نتیجے میں آمریت کا خاتمہ ہوا، ملک آج جس آگ میں جل رہا ہے، یہ آگ ایک آمر نے لگائی تھی۔

پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا پارٹی کے یوم تاسیس پر جلسے سے خطاب، انہوں نے کہا ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو نے آج کے دن سیاسی تاریخ کی بنیاد رکھی، بھٹو کی تحریک کے نتیجے میں آمریت کا خاتمہ ہوا، ملک آج جس آگ میں جل رہا ہے، یہ آگ ایک آمر نے لگائی تھی۔

 ان کا کہنا ہے کہ مذہب کو سیاست میں نہ گھسیٹا جائے۔ مذہب کو دہشت گردی کے نام پر بدنام کیا گیا، لیڈر بننا ہے تو شہید بھٹو سے سیکھو ، جو پھانسی پر جھول گیا، لیڈر بننا ہے تو شہید بی بی سیکھوں جو شہید ہوگئی، سر نہیں جھکایا، لیڈر بننا ہے تو جیالوں سے سیکھوں جو کبھی کسی سے نہیں ڈرے۔

بلاول بھٹو کا کہنا ہے کہ پیپلزپارٹی کا مقابلہ ہمیشہ غیرجمہوری قوتوں سے رہا ہے، پہلے ہم ایک لاڈلے سے لڑ رہے تھے، اب ایک اور لاڈلہ میدان میں اتار دیا گیا، یہ انوکھا لاڈلہ ہے جس نے کھیلنے کو چاند مانگا تو پورا ملک دے دیا گیا، یہ ایسا لاڈلہ ہے کہ جو چوری بھی کرتا ہے اور سینہ زوری بھی،  یہ لاڈلہ یو ٹرن لے کر کہتا ہے یوٹرن لئے بغیر لیڈر نہیں بنتا۔  بلاول بھٹو نے وزیراعظم کے یوٹرن کی تفصیل بتا دی، کھاد، بجلی، گیس مہنگا کرکے کون سا انقلاب لانا  چاہتے ہو، 100روز میں زرعی ایمرجنسی کے وعدے کا کیا ہوا؟  آپ نے بجلی کے شعبہ میں اب تک کیا کیا ہے؟ عمران خان آپ لاکھوں لوگوں کو بیروزگار اور بے گھر کررہے ہو، یوٹرن لینا ہے تو مہنگے پٹرول پر یو ٹرن لو   روٹی بھی مہنگا، مہنگا ہوگیا نان، کیا یہ ہے نیا پاکستان؟

مینگل صاحب کو تنقیعد کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ  مینگل صاحب آپ کے 6 نکات پر کیا کیا گیا، مینگل صاحب آپ کے 6 نکات پر بھی یوٹرن لیا جائے گا، کراچی پیکیج پر یوٹرن، پھر بھی پتنگ بلا بھائی بھائی، خان صاحب آپ نے 100 دن میں 100 یوٹرن لینے کے سوا کیا کیا ہے؟  اب 18ویں ترمیم پر حملے کئے جارہے ہیں، صوبائی خودمختاری پر حملے کئے جارے ہیں، یہ لوگ ملک کو ون یونٹ بنانا چاہتے ہیں،18ویں ترمیم پر حملہ ہوا تو ہر کوشش ناکام بنا دیں گے،  آپ نے تو 100 دن میں انقلاب لانے کی بات کی تھی، اب100روز میں جنوبی پنجاب صوبہ کی بات پوری نہیں ہوئی۔

خان صاحب آپ نے تو اداروں کو غیر سیاسی کرنے کی بات کی تھی،آپ نے آئی جی اور ڈی پی اوز کے تبادلے شروع کردیئے۔ آج مہنگائی کی وجہ سے غریب کی کمر ٹوٹ گئی ہے، بیروزگار زندگی سے مایوس ہے، حکومت کنٹینر سے اترنے کا نام ہی نہیں لے رہی، احتساب کے نام پر انتقام کا نظام گرم کیا، خیبرپختونخوا میں احتساب کمیشن ہی ختم کردیا، ایک سزا یافتہ وزیراعظم کے اختیارات استعمال کررہا ہے۔

شازیہ بشیر

   Shazia Bashir   Edito