"معیشت پر بات(ن) لیگ کےمنہ سے اچھی نہیں لگتی"



اسلام آباد(24نیوز) وزیرخزانہ نے کہا کہ پاکستان کو 154ارب ڈالر خسارے کا سامنا ہے،بیل آؤٹ پیکیج نا گزیر تھا ،سوال یہ تھا کہ لینا کس سے ہے،معیشت پر بات (ن )لیگ کے منہ سے اچھی نہیں لگتی ۔

تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہو ئے وزیرخزانہ  اسد عمر کا کہنا تھا کہ معیشت ہمار ہ بیرونی خسارہ ہے جو کہ سترہ،اٹھارہ ارب ہو تا تھا وہ  تجارت کا خسارہ گزشتہ سال دوگناہ ہو کر 35 ارب سے زائد  ہو گیا، ہماری برآمدد 25ارب ڈالرسے بھی کم تھی اور درآمدات 60 ارب ڈالر تھیں، پیپلز پارٹی کی حکومت جب ختم ہو ئی مئی ، جون ، جولائی اوسط جو خسارہ تھا وہ دو ارب ڈالر تھا جو سال کا خسارہ تھا وہ ایک ماہ میں ہو رہا تھا ، عالمی قرضے لینے کے باوجود ذرمبادلہ  کے ذخائر تیز ی کے ساتھ گر رہے تھے، دسمبر 2017 میں مفتاح اسماعیل وزیر خزانہ تھے انہوں نے اپنے حساب سے پالیسی کو بدلا اور روپے کی قدر میں کمی آنا شروع ہوگئی۔

دوسری جانب حکومت کے اخراجات تیزی کے ساتھ بڑھ رہے تھے ، بجٹ کا خسارہ جو 4.1فیصد رکھا گیا تھا وہ سال ختم ہو نے پر 6.6 فیصد تھا  جس کی وجہ سے معشیت میں بحرانی کیفیت پید اہو گئی  نتیجے میں روپے کی قدر میں کمی ہو ئی جس کی وجہ سے ہمیں ٹیکس میں اضافہ کرنا پڑا،وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ معیشت کو بدلنے کی ضرورت ہے بیل آؤٹ پیکیج نا گزیر تھا، اس سلسلے میں ہم نے آئی ایم ایف اور دوست ممالک سے بیک وقت بات کی ، ہم نے اپنا ایجنڈا ان کو بتایا کہ ہم پاکستان میں بنیادی اصلاحات کرنے جارہے ہیں اس سلسلے میں ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سعودی عرب نے ہمیں تین ارب ڈالر کی امداد دی اس کے علاوہ ہم ہرگز آئی ایم ایف پر انحصار نہیں کرسکتے تھے کہ سارا پیشہ ادھر سے آئے، قومی اسمبلی میں خطاب کر تے ہو ئے ان کا کہنا تھاکہ میں تمام پارٹیوں سےامید  ہ کر تا ہوں وہ کوئی ٹھوس تجاویز دیں گے جس کو ہم اپنے پلان کا حصہ بنائیں گےاور یہ آئی ایم ایف کا آخری پروگرام ہو گا۔

وزیرخزانہ کا کہناتھا کہ سی پیک کو ہم نے اگلے مرحلے میں لےکرجانا ہے،سی پیک کاسب سے بڑاہدف پاکستان کے تجارتی خسارے میں کمی لاناہے، گیس کے شعبہ میں 154 ارب روپے خسارے کے باعث قیمتیں بڑھائیں،بجلی کے نظام میں بہتری کیلئے قیمتیں بھی بڑھائی گئیں، چین تجارتی خسارہ کم کرنے کیلئے مددکررہا ہے،پاکستان کو 35 ارب ڈالرتجارتی خسارے کاسامنا ہے۔

وزیرخزانہ کا مزید کہنا تھا کہ (ن)  لیگ کے منہ سے معیشت کی بات اچھی نہیں لگتی،بجٹ خسارہ کنٹرول کرنے کیلئے 1200 ارب کے نوٹ چھاپے گئے،کسانوں کیلئے ٹیوب ویل پربجلی کی قیمت آدھی کردی،چینی کمپنیوں سے شراکت داری کیلئے اقدامات کررہے ہیں،پچھلی حکومت 154 ارب روپے کا خسارہ چھوڑ کرگئی، یہی وجہ ہے کہ معاشی استحکام کے لیے پاکستان دوست ممالک سے مددلے رہا ہے۔