’’خداکاواسطہ ہے لوگوں کاخیال کریں‘‘

 ’’خداکاواسطہ ہے لوگوں کاخیال کریں‘‘


لاہور(24نیوز) سپریم کورٹ میں حمیدلطیف ہسپتال سےمتعلق کیس کی سماعت، چیف جسٹس پاکستان نے ڈی جی ایل ڈی سےرپورٹ طلب کرلی، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ہرطرح کی رعایت دی جائےگی،اسپتال ماڈل ہوناچاہیے۔

تفصیلات کے مطابق   سپریم کورٹ میں حمیدلطیف ہسپتال سےمتعلق کیس کی سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس پاکستان نے ڈی جی ایل ڈی سےرپورٹ طلب کرلی، چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں 2رکنی بنچ نے سماعت کی،  ڈی جی ایل ڈی اے آمنہ عمران سمیت دیگرافسران پیش ہوئے ۔

ڈی جی ایل ڈی اے  کے مطابق حمید لطیف ہسپتال نے قانون کی خلاف ورزی کی ،چیف جسٹس پاکستان  کا کہنا تھا کہ  بلڈوزراورکرین لگاکرغیرقانونی تعمیرات مسمار کردیں، جبکہ راشد لطیف کا کہنا تھا کہ غریبوں کیلئے 30بیڈزمختص کردیئے،ریٹ لسٹ میں 45فیصد کمی کی،جس پرچیف جسٹس نے کہا کہ  ہرطرح کی رعایت دی جائےگی،ہسپتال ماڈل ہوناچاہئے۔ مصری شاہ سےآیاہواعام شہری آپ کے ہسپتال میں علاج کراسکے۔   جسٹس اعجازالاحسن کا کہنا تھا کہ سٹنٹ ایک لاکھ میں ڈالنےکاحکم دیا اڑھائی لاکھ لئےجارہے ہیں۔ 

چیف جسٹس نے مزید کہا کہ خداکاواسطہ ہے لوگوں کاخیال کریں، بڑ ےسکولزکیخلاف بھی ایکشن لیں گےجوبھاری فیس لیتے ہیں، اسلم اقبال سےمکالمہ کرتے ہوئے ان کا کہنا تھامنسٹرصاحب معیاری تعلیم دیناآپ کاکام ہے، عدالت  نےڈی جی ایل ڈی اےکوایک ہفتے میں عملدرآمدکاحکم دیا۔