"پی ٹی آئی والے بدمعاشوں کی پیروی کرکے نیا پاکستان بنانے چلے ہیں"



لاہور ( 24نیوز ) سپریم کورٹ لاہوررجسٹری میں چیف جسٹس میاں ثاقب نثارقبضہ مافیاکیس میں ملزمان پربرس پڑے۔عدالت سےجھوٹ بولنے پرپی ٹی آئی ایم این اےاورایم پی اےکی خوب کھچائی کی۔توہین عدالت لگانے کی دھمکی دیتے ہوئے کل سپریم کورٹ اسلام آبادطلب کرلیا۔

سپریم کورٹ لاہوررجسٹری میں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نےپی ٹی آئی کے ایم این اے اور ایم پی اے کیخلاف سخت ریمارکس دئیے۔کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نےعدالت میں جھوٹ بولنے پرپی ٹی آئی ایم این اےکرامت کھوکھرکی سخت سرزنش کرتے ہوئے کہاکیوں نہ غلط بیانی کرنے پرآپ کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے۔

سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں جوہر ٹاون میں قبضہ مافیا کے سرغنہ منشا بم کے خلاف شہری کی درخواست پر کیس کی سماعت ہوئی۔کیس میں نامزد ملزمان تحریک انصاف کے ایم این اےکرامت کھوکھر، ایم پی اے ندیم بارا اور ایس پی عدالت میں پیش ہوئے۔سماعت کے آغاز پر چیف جسٹس نے پولیس حکام سے استفسار کیا کہ یہ منشا بم کون ہے؟ اس پر پولیس نے بتایا کہ منشا بم جوہر ٹاؤن کا بہت بڑا قبضہ گروپ ہے اور اس کے خلاف 70 مقدمات درج ہیں۔پولیس نے بتایا کہ منشابم بیٹوں کے ساتھ مل کر جوہر ٹاؤن میں زمینوں پر قبضے کرتا ہے اور جب پولیس اسے گرفتار کرنے پہنچی تو پی ٹی آئی کے ایم این اےنے گرفتاری روکنے کی درخواست کی۔

دوران سماعت عدالت میں پی ٹی آئی کے ایم پی اے ندیم عباس بارا نے رونا شروع کردیا۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ باہر بدمعاشی کرتے ہو اوراندر آکر رونا شروع کردیتے ہو۔ ایم پی اے ندیم عباس بارا نے استدعا کی میرے خلاف ایس پی نے جھوٹے مقدمات درج کروائے، مقدمات میں میری غلطی ثابت ہوئی تو استعفی دے دوں گا۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ تم پہلے استعفیٰ دو جلدی کرو، تم لوگوں میں اتنی جرات نہیں کہ استعفیٰ دے دو۔

اس موقع پر عدالت میں ملک کرامت نے بتایا کہ وہ منشابم کو نہیں جانتے، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ملک کرامت کھوکر تم نے جھوٹ بولا اور آج تحقیقات میں ثابت ہوا تو آج بطور ایم این اے واپس نہیں جاؤ گے۔اس موقع پر عدالت نے ڈی جی آپریشن کو طلب کرتے ہوئے سماعت میں وقفہ کردیا۔

وقفے کے بعد کیس کی سماعت شروع ہوئی تو چیف جسٹس نے ملک کرامت کھوکر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے کہا میں منشابم کو نہیں جانتا تو پھر آپ نےڈی آئی جی کو منشا کے بیٹے کی رہائی کے لیے کیوں فون کیا، کیوں نہ غلط بیان پر آپ کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے۔کرامت کھوکر نے کہا کہ میں عدالت سے معذرت چاہتا ہوں۔چیف جسٹس نےکہاجھوٹ بولنے والا صادق اور امین نہیں ہوتا، جھوٹ بولنے پر جب سزا دوں گا تب آپ کو پتہ چلے گا۔چیف جسٹس نے کہا کہ یہ آپ لوگوں کا کردار ہے؟ جھوٹ بولیں گے تو کیا جواب دیں گے، خدا کا خوف کریں لوگوں نے آپ کو ووٹ دیا ہے۔

اس دوران ایم پی اے ندیم عباس بارا نے روسٹرم پر چیف جسٹس کے سامنے ہاتھ جوڑتے ہوئے کہا کہ مجھے معاف کردیں میں تو غلطی سے سپریم کورٹ آگیا، جس چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آپ بھی کل اسلام آباد آئیں، وہاں دیکھتے ہیں کہ معافی دینی ہے یا نہیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ اپنا استعفیٰ ساتھ لے کر آنا ورنہ میں آپ کی جگہ استعفیٰ لکھ دوں گا۔

عدالت نے جھوٹ بولنے پر تحریک انصاف کے ایم این اے کرامت کھوکر کو نوٹس جاری کرتے ہوئےایم پی اے ندیم عباس سمیت کل سپریم کورٹ اسلام آباد طلب کرلیا۔

سٹاف ممبر، یونیورسٹی آف لاہور سے جرنلزم میں گریجوایٹ، صحافی اور لکھاری ہیں۔۔۔۔