بےحس معاشرہ، اولڈ ایج ہوم میں بکھری کہانیاں

بےحس معاشرہ، اولڈ ایج ہوم میں بکھری کہانیاں


راولپنڈی (24نیوز) بے حس معاشرے میں کئی بزرگ راولپنڈی میں اولڈ ایج ہوم میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔اپنوں کے ستائےہوئے ان بزرگوں نے اولاد اور رشتہ داروں کے آنے کی امید بھی اب چھوڑ دی ہے، بزرگ والدین شعر و شاعری کرتے گنگناتے درد سے آنکھیں چراتے وقت گزار رہے ہیں۔

راولپنڈی شہر میں اولاد اور اپنوں کے ستائے بزرگ باغبان اولڈ ایج ہوم میں زندگی کے ایام گزارنے پر مجبور ہیں، کہیں خود غرض اولاد کی ستائی مائیں پلو سے آنسو پونچھتی رہیں تو کہیں باپ انا پرست اولاد کے سرد گرم رویوں پر بے بسی سے لب سی کر بس مسکرا دیئے۔اولڈ ایج ہوم میں زندگی گزارنےوالے والدین کےزخم تازہ نہ ہوں اس لیےانہوں نے ماضی کےجھروکوں میں جانے سےگریز کیا،  کسی نے اشعار پڑھے تو کسی نے گیت گایا، تلاوت کلام پاک میں مصروف رہنے والے 84 سالہ غلام نبی نے معاشرے کو والدین کا سہارا بننے کی ہدایت کی۔

سربراہان کا کہنا تھا کہ آنے والے بزرگوں کو گھر کا سا ماحول فراہم کیا جاتا ہے اور بنیادی سہولیات کا خیال رکھا جاتا ہے، اولاد اور اپنوں کی تلخیوں سے دور اولڈ ایج کی پناہ گاہ میں بزرگ والدین اپنے ساتھیوں کے ساتھ درد بانٹتے ہنستے کھیلتے وقت گزار رہے ہیں۔

سٹاف ممبر، یونیورسٹی آف لاہور سے جرنلزم میں گریجوایٹ، صحافی اور لکھاری ہیں۔۔۔۔