صرف رپورٹ کی بنیاد پر حکومت گرانے کی اجازت نہیں دے سکتے:چیف جسٹس


اسلام آباد( 24نیوز ) چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ صرف رپورٹ کی بنیاد پر حکومت گرانے کی اجازت نہیں دے سکتے۔

چیف جسٹس نے سپریم کورٹ میں جعلی اکاﺅنٹس کیس کی سماعت کی ،چیف جسٹس نے حکومت کی جانب سے 172 افراد کے نام ای سی ایل میں ڈالنے پر شدید برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ جواب گزاروں کو جے آئی ٹی رپورٹ پر جواب داخل کرنے کا کہا اور حکومت نے ان کے نام ای سی ایل میں ڈال دیے۔

سماعت کا آغاز ہوا تو چیف جسٹس پاکستان نے 172 افراد کے نام ای سی ایل میں ڈالنے پر شدید برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ 'یہ کام کس نے کیا ہے' جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ میں اس معاملے کو دیکھ لیتا ہوں، چیف جسٹس نے کہا ہم خود اس معاملے کو دیکھ لیں گے،چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا '172 افراد کے نام ای سی ایل میں ڈالنا کیا کوئی عام بات ہے، ملک کے دوسرے بڑے صوبے کے چیف ایگزیکٹو کا نام ای سی ایل میں کیسے ڈال سکتے ہیں، کل کو آپ کا اور چیئرمین نیب کا نام بھی ای سی ایل میں ڈال دیا جائے۔

چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ مبینہ جعلی بینک اکائونٹس کے ذریعے منی لانڈرنگ کے از خود نوٹس کیس کی سماعت کر رہا ہے۔

عدالت نے حکم دیا کہ متعلقہ وزیر 15 منٹ میں عدالت میں پیش ہوں جب کہ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کیا ایسے ہی نام اٹھا کر ای سیل ایل میں ڈال دیے جاتے ہیں، متعلقہ وزیر کو کہیں سمری بھی ساتھ لے کر آئیں۔

چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے مکالمے کے دوران کہا مجھے تو اس سارے معاملے پر حیرت ہوئی ہے کیسے نام ای سی ایل میں ڈالے گئے، وفاقی حکومت اس کی کیسے وضاحت دے گی،چیف جسٹس نے استفسار کیا جے آئی ٹی رپورٹ کے مندرجات کیسے لیک ہو گئے جس پر تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ احسان صادق نے کہا ہمارے سیکرٹریٹ سے کوئی چیز لیک نہیں ہوئی، میڈیا نے سنی سنائی باتوں پر خبریں چلائیں۔

یاد رہے حکومت پاکستان نے172افراد کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کی سفارش کی ہے،حکومت کی طرف سے ان افراد کی فہرست بھی جاری کی گئی ہے جن میں سابق صدر آصف علی زرداری،بلاول بھٹو زرداری،وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ سمیت بڑے بڑے سیاستدانوں اور بزنس مینوں اور سابق اور موجودہ سرکاری،غیر سرکاری افسروں کے نام شامل ہیں۔

سندھ میں گورنر راج لگایا تو اُسے اڑانے میں ایک منٹ لگے گا: چیف جسٹس

عدالت کے طلب کیے جانے پر وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی عدالت کے روبرو پیش ہوئے، جنہیں مخاطب کرتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا خبردار کسی نے آئین سے باہر ایک بھی قدم اٹھایا، مسٹر وزیر داخلہ، جا کر اپنے بڑوں کو بتادیں ملک صرف آئین کے تحت چلے گا، ہم نے تو اس وقت بھی جمہوریت کو ڈی ریل نہیں ہونے دیا جب تھریٹس تھیں۔

چیف جسٹس نے کہا آپ کی کابینہ کے ارکان ٹی وی پر بیٹھ کر گورنر راج کی باتیں کررہے ہیں، 172 افراد کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کے معاملے کو کابینہ میں لے جا کر نظرثانی کریں۔چیف جسٹس نے ہدایت کی کہ مقدمے کے حوالے سے حکومت اور دوسری طرف کے لوگ بیان بازی سےگریز کریں، اگر ہم نے کسی کا 'کمنٹ' پکڑ لیا تو کارروائی ہوگی۔

جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کچھ لوگ یہ تاثر دے رہے ہیں کہ یہ کارروائی "کسی" کے کہنے پر کی جارہی ہے، یہ کارروائی "کسی" کے کہنے پر نہیں بلکہ معاملات سامنے آنے پر ہم اپنے ضمیر کے مطابق کر رہے ہیں۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے عدالت نے جے آئی ٹی رپورٹ کی تاحال توثیق نہیں کی اور ساری کابینہ اور وکلا جے آئی ٹی رپورٹ پر تبصرے کررہے ہیں، ان کا اس سارے معاملے سے کیا تعلق ہے۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا وزراء رات کو ٹی وی پر بیٹھ کر اپنی کارکردگی بتارہے ہوتے ہیں، تمام سیاستدان سن لیں، ہم نے قانون بنا کر اسمبلی کو بھجوائے ہیں۔