طالبان نے افغانستان کے 70 فیصد علاقے پر قبضہ کرلیا


کابل(24نیوز) طالبان نے افغانستان کے 70 فیصد علاقے پر قبضہ کرلیا ہے، برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق افغانستان کے صرف 30 فیصد علاقے پر افغان حکومت اور امریکی اتحادی فوجی کی عملداری ہے، باقی ملک پر ملک کا قانون نہیں چلتا۔
بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق پینٹاگون نے گزشتہ روز جاری کی جانے والی رپورٹ میں طالبان کے قبضے کے حوالے سے اعداد و شمار کو چھپایا۔ اربوں ڈالر خرچ کرنے کے بعد بھی امریکا کو افغانستان میں مسلسل پسپائی کا سامنا ہے۔
بی بی سی کے رپورٹر نے افغان صوبہ ہلمند کا دورہ کیا اور وہاں طالبان اور اتحادی فوجیوں کے درمیان ہونے والی لڑائی کے دوران رپورٹ تیار کی، افغانستان کے 70 فیصد علاقے پر عملا طالبان کا کنٹرول قائم ہوچکا ہے۔
میں اس وقت لڑائی کے فرنٹ لائن پر کھڑا ہوں، سرکاری اور اتحادی افواج علاقے میں اپنی موجودگی کا ثبوت دینے کی کوشش کررہی ہیں لیکن انہیں طالبان کی طرف سے شدید مزاحمت کا سامنا ہے۔
اولیا اطرافی کے مطابق لڑائی کے بعد علاقے سے بڑی آبادی محفوظ مقامات پر منتقل ہوچکی ہے،یہ وہ خاندان ہیں،،، جو طالبان اور سرکاری فوج کی لڑائی میں براہ راست متاثر ہوئے ہیں۔یہ افراد لڑائی میں اپنے پیاروں اور خاندان کے بہت سے افراد کو کھو چکے ہیں۔ہم سرکاری فوج اور طالبان کے درمیان ہونے والی لڑائی کے عین درمیان موجود تھے، طالبان کی طرف سے مارٹر گولہ گرنے سے میں نے اپنے والد اور بھائی کو کھو دیا۔میرا باپ مارا گیا،،، میں بھی شدید زخمی ہوا،،، میری دونوں ٹانگیں ضائع ہوگئیں میری زندگی جہنم بن چکی ہے، میں خود کچھ نہیں کرسکتا، دوسروں کا محتاج ہو چکا ہوں میں ایک امیر شخص تھا، میرے انار کے 2000 درخت تھے، میں جب اپنے باغ میں داخل ہوا تو طالبان نے مجھے اغوا کرلیا،اب میں بازیاب ہو کر یہاں آگیا ہوں لیکن میرے پاس اتنے بھی پیسے نہیں کہ میں اپنے بچوں کو کھانا ہی کھلا سکوں۔
انہوں نے بتایا کہ میں اس وقت لڑائی کے دوران لشکر گاہ کے علاقے میں فرنٹ لائن پرموجود ہوں۔جہاں افغان پولیس نے طالبان کو شہر میں داخل ہونے سے روک رکھا ہے۔
پولیس اہلکار محمد عظیم نے بتایا کہ طالبان یہاں سے کچھ ہی دور موجود ہیں،، کچھ معلوم نہیں کس وقت فائرنگ کا تبادلہ شروع ہو جائے۔کمانڈر ولی ہلمند میں پولیس کی تیسری بٹالین کے انچارج ہیں،، جو طالبان کو صوبائی دارالحکومت پر طالبان کا قبضہ روکنے کی سرتوڑ کوششوں میں مصروف ہیں،اس مقام پر آپ کو بہادری اور قربانیوں کی کہانیاں ملتی ہیں،،، بہت سے لوگ ہیں جو موت کے منہ سے واپس نہیں آسکے، طالبان کی طرف سے داغا گیا راکٹ میرے سر پر لگا،،، میرے ساتھی فوجی کے حکام کو اطلاع دی کہ میں مر چکا ہوں،، لیکن میں بظاہر مرا ہوا بھی اس کی تمام باتیں سن رہا تھا۔اس کے بعد میرا پاؤں ایک بارودی سرنگ پر آگیا اور میں اپنی دونوں ٹانگوں سے محروم ہوگیا۔
ان کا کہنا ہے کہ طالبان اور سرکاری فوج کی اس لڑائی میں عام افغان پس رہے ہیں،، جل رہے ہیں، مر رہے ہیں،ایک طرف طالبان کی شیلنگ ہے تو دوسری طرف امریکی طیارے بارود برسا رہے ہیں لیکن حالات بتاتے ہیں کہ یہاں رہ جانے والے یہ بچے کچھے افراد بھی زیادہ عرصہ یہاں نہیں رہ سکیں گے۔
مقامی انسانی حقوق کے ادارے نے بتایا کہ گزشتہ ایک سال کی لڑائی میں صرف ہلمند میں 2 ہزار سے زائد افراد ہلاک اور زخمی ہو چکے ہیں،،، جن میں بوڑھے افراد بھی شامل ہیں اور بچے بھی اس لڑائی میں کسی سے امتیازی سلوک نہیں کیا جارہا،سب مر رہے ہیں۔
ریڈکراس نے گزشتہ ایک سال کے دوران ایک ہزار افراد کو مصنوعی ٹانگیں لگائی ہیں، گیارہ سالہ ملک نے اپنی کہانی بیان کرتے ہوئے بتایا کہ جو ہم سے بات کرنے بھی خوفزدہ دکھائی دیتا ہے،یہ بہت خوفناک زندگی ہے، بچے اب گھر سے باہر نکلنے سے بھی ڈرتے ہیں،،، ہر رات ان پر ایک انجانا خوف سوار رہتا ہے،ہمارا مستقبل بہت برا ہے، ہم درست سمت میں نہیں چل رہے، ہم بس موت کا انتظار کررہے، وہ آج آ جائے یا کل،،، بس اب ہم ایسی ہی زندگی گزار رہے ہیں۔
ملک باغ میں کھیل رہا تھا جب طالبان کی طرف سے بچھائی بارودی سرنگ پھٹنے سے اس نے اپنی دونوں ٹانگیں اور پیارے دوست کو کھو دیا۔