شہریت چھپانے والوں کیخلاف کارروائی ہوگی: چیف جسٹس

شہریت چھپانے والوں کیخلاف کارروائی ہوگی: چیف جسٹس


 اسلام آباد ( 24نیوز ) سپریم کورٹ نے سرکاری افسران کی دہری شہریت سے متعلق سیکریٹری داخلہ سے رپورٹ طلب کرلی، مسلح افواج کے جوانوں اور افسران سے متعلق بھی رپورٹ مانگی گئی۔

چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکن بنچ نے ججز اور سرکاری افسروں کی دوہری شہریت سے متعلق ازخود نوٹس کی سماعت کی، سماعت کے دوران چیرمین نادرا نےکہا کہ ایک ہزار 116 افسران و اہلکار غیر ملکی یا دوہری شہریت رکھتے ہیں۔انھوں نے عدالت کو بتایا کہ 1249افسروں کی بیگمات غیر ملکی یا دوہری شہریت کی حامل ہیں۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیے کہ کئی افسروں نے تاحال دوہری شہریت چھپائی ہوئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:الیکشن کمیشن نے چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کا مطالبہ مسترد کر دیا 

شہریت چھپانے والوں کیخلاف کارروائی ہوگی، دوہری شہریت رکھنا قانونی طور پر کوئی جرم نہیں، دوہری شہریت والے ممبر پارلیمنٹ نہیں بن سکتے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ سرکاری افسروں کے حوالے سے دوہری شہری کا قانون خاموش ہے، کیا قانون میں ارکان اسمبلی سے تعصب تو نہیں برتا جا رہا، کئی ججز اورحساس دفاترمیں کام کرنے والے افسران بھی دوہری شہریت کے حامل افسران ہیں۔

پڑھنا نہ بھولیں:پیپلز پارٹی نے ہمیشہ جمہوریت، پارٹی پارلیمان کو مضبوط بنانے کیلئے جدوجہد کی ہے: بلاول 

چیف جسٹس نے مزید کہا کہ کئی سرکاری افسر تو پاکستان کے شہری ہی نہیں، جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ دوہری شہریت کے قانون جس کا اطلاق ارکان پارلیمنٹ پر ہوتا ہے وہی افواج پاکستان پر بھی ہے۔ہم وفاقی حکومت کو تجویز کر سکتے ہیں کہ آپ اس معاملے کو دیکھیں، بہت سے ایسے قوانین ہیں جو آئین کی رو کے برخلاف ہیں،،بدقسمتی سے ہم نے ان قوانین کو نہیں دیکھا، چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ افواج پاکستان کو بھی نوٹس جاری کرتے ہیں۔

یہ خبر ٖرور پڑھیں:عمران خان کے اقتدار سنبھالنے سے پہلے امریکہ نے بڑی رکاوٹ کھڑی کردی

 اور ان سے بھی پوچھتے ہیں کہ کیا ان کے پاس دوہری شہریت کے حامل لوگ ہیں، عدالت نے سیکرٹری دفاع سے مسلح افواج کے جوان اور افسران کی دوہری شہریت کے معاملے پر رپورٹ طلب کر لی کرتےہوئے سماعت کل تک ملتوی کردی۔

شازیہ بشیر

   Shazia Bashir   Edito