ملالہ یوسفزئی کی ساڑھے 5سال بعد آبائی علاقہ سوات آمد، فوجی حکام کا استقبال


اسلام آباد ( 24نیوز )نوبیل انعام یافتہ پاکستانی طالبہ ملالہ یوسفزئی ساڑھے 5 سال بعد اپنے آبائی علاقے سوات پہنچ گئیں، ملالہ یوسفزئی بذریعہ ہیلی کاپٹر اسلام آباد سے سوات پہنچیں، جہاں اعلیٰ فوجی حکام نے ان کا استقبال کیا۔
ملالہ یوسفزئی کی سوات آمد کے موقع پر سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے،ذرائع کے مطابق اپنے آبائی علاقے آمد کے موقع پر ملالہ آبدیدہ ہوگئیں اور ان کے والد نے انہیں دلاسا دیا،اس دورے کے دوران ملالہ اپنے آبائی گھر بھی جائیں گی اور اپنی سہیلیوں سے بھی ملیں گی،ملالہ یوسف زئی فضہ گھاٹ اور کیڈٹ کالج سوات بھی جائیں گی۔وزیر مملکت برائے اطلاعات مریم اورنگزیب بھی دورہ سوات میں ملالہ یوسف زئی کے ہمراہ ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: وزیر اعظم نے چیئرمین سینیٹ کو مشکل میں ڈال دیا
 
یاد رہے ملالہ یوسفزئی 28 اور 29 مارچ کی درمیانی رات کو تقریباً ساڑھے پانچ سال بعد وطن واپس پہنچی تھیں، والدین سمیت دیگر اہل خانہ بھی ملالہ کے ہمراہ پاکستان پہنچے ہیں جبکہ سی ای او ملالہ فنڈ فرح محمد بھی ان کے ہمراہ ہیں۔
خیال رہے کہ ملالہ پر 9 اکتوبر 2012 کو مینگورہ میں اسکول سے گھر جاتے ہوئے حملہ کیا گیا تھا، جس کے بعد ملالہ کو زخمی حالت میں پہلے پشاور لے جایا گیا اور بعد میں راولپنڈی کے اسپتال میں منتقل کردیا گیا۔پندرہ اکتوبر 2012 کو حالت میں بہتری آنے کے بعد ملالہ کو علاج کے لیے برطانیہ منتقل کردیا گیا۔
اس سے قبل ملالہ یوسفزئی نے مختلف انٹرویوز میں کہا ہے کہ وہ ملک کی وزیراعظم نہیں بننا چاہتیں کیونکہ سیاست بہت پیچیدہ عمل ہے، تبدیلی تو آپ کسی اور طریقے سے بھی لاسکتے ہیں، ملالہ ہیٹرزکو کوئی شکایت ہے یا کوئی مسئلہ اجاگر کرنا چاہتے ہیں تو بات کرنے کو بخوشی تیار ہوں۔ دوست، رشتہ دار، سکول، گلیاں، وادیاں، ندیاں سب کچھ مِس کیا، کبھی کبھار تو کچرا، گندگی اور نالیاں تک یاد آتی تھیں، کیونکہ جب تک آپ کسی چیز کو کھو نہ دیں تب تک اس کی قدر و قیمت کا پتہ نہیں چلتا، جب سوات کو کھویا تو 'احساس ہوا کہ یہ تو بہت خوبصورت جگہ تھی، ڈاکٹرز نے کہا تھا، اگر یہ سرجری نہ ہوتی تو میرا بچنا مشکل تھا اور میں آج یہاں نہ ہوتی۔

پڑھنا نہ بھولئے: لڑکیاں خواجہ آصف کی دلدادہ ہوگئیں

انہوں نے کہا ہے کہ حکومت اور آرمی دونوں نے میری مدد کی، مجھے سیکیورٹی دی شکرگزار ہوں، میرا خواب ہے کہ پاکستان کی سڑکوں اور بازاروں میں کھلے عام بغیر سکیورٹی کے گھوم سکوں اور لوگوں سے بات کر سکوں، پاکستان بہتری کی طرف جا رہا ہے، معیشت ترقی کر رہی ہے، اسلام ایک امن کا مذہب ہے وہ کسی کو نہیں کہتا کہ وہ بندوق اٹھائے اور دوسرے لوگوں کو اسلام کے نام پر مارے، لوگوں کو سمجھانا بہت ضروری ہے کہ اسلام امن اور محبت کا درس دیتا ہے۔

برطانوی نشریاتی ادارے کودیئے گئے انٹرویو میں ملالہ نے کرکٹ سے لے کر سیاست تک مختلف موضوعات پر بات کی۔ انہوں نے کہا میں وزیراعظم نہیں بننا چاہتی، یہ خواب تب دیکھا جب میں 11 یا 12 برس کی تھی، سوات میں دہشت گردی تھی، مجھے لگا کہ وزیر اعظم بن کر میں اپنے ملک کے مسائل حل کر دوں گی، لیکن یہ حقیقت نہیں ہے۔ یہ ایک مشکل عمل ہے، اور تبدیلی تو آپ کسی بھی اور طریقے سے لا سکتے ہیں۔

ضرور پڑھئے: عمران خان کی اہلیہ کے سابق دیور نے پی ٹی آئی کو بڑا دھچکا دے دیا

ملالہ نے بتایا کہ وہ کرکٹ کی بہت بڑی مداح ہیں اور پاکستان سپر لیگ میں وہ پشاور زلمی کی حمایت کر رہی تھیں لیکن 'اسلام آباد یونائیٹڈ جیت کی حقدار تھی۔ وہ کہتی ہیں کہ انہیں تو 'آج تک کسی نے ایسے کوئی ثبوت نہیں دیئے جو یہ کہتے ہیں کہ میں ایجنٹ ہوں۔ میں ملالہ ہوں اور میں لڑکیوں کی تعلیم پر یقین رکھتی ہوں۔