پشاور: بڑے ہسپتالوں میں ڈاکٹرز کے لکھے  نسخے سمجھ سے باہر

پشاور: بڑے ہسپتالوں میں ڈاکٹرز کے لکھے  نسخے سمجھ سے باہر


پشاور (24نیوز) بڑے ہسپتالوں میں ڈاکٹرز کے لکھے گئے 58فیصد نسخے پڑھنے اور سمجھنے کے قابل ہی نہیں۔ مریضوں کی شکایات پر صوبائی حکومت نے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کا فیصلہ کرلیا۔

 تفصیلات کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت کے جہاں صوبے میں بہترین طبی سہولتیں فراہم کرنے کے دعو ے ہیں وہیں پر ہسپتال میں مریضوں کو کئی سائل بھی درپیش ہیں۔ پاکستان میڈیکل جنرل کی رپورٹ کے مطابق58فیصد ڈاکٹری نسخے پڑھے اور سمجھے ہی نہیں جا سکتے۔اس سے بڑھ کر یہ کہ99 فیصد نسخوں پر ڈاکٹرز کا نام اور98فیصد پر رجسٹریشن نمبر ہی درج نہیں ہوتا۔

یہ بھی پڑھیں:بلوچستان میں ایڈز کے مریضوں میں خطرناک حد تک اضافہ
 
اوربیماری کا بھی ذکر نہیں ہوتا۔دوسری جانب محکمہ صحت نے ڈاکٹری نسخوں کو بین الاقوامی معیار کے مطابق کرنے کے اقدامات شروع کردیے۔

خیبرپختونخوا ہیلتھ فاونڈیشن کے سربراہ ڈاکٹر طاہر ندیم کا کہنا ہے کہ معاملے کو دیکھنے کے لئے کمیٹی بنا دی گئی ہے۔حکام کاکہنا ہے کہ ہسپتالوں میں دی جانے والی او پی ڈی کی پرچی پر تمام ڈاکٹرز کا نام اور رجسٹریشن نمبردیا جائے گا۔