ن لیگ کے بڑے نام پارٹی چھوڑنے کو تیار، پیپلز پارٹی، تحریک انصاف سے رابطے

ن لیگ کے بڑے نام پارٹی چھوڑنے کو تیار، پیپلز پارٹی، تحریک انصاف سے رابطے


اسلام آباد (24 نیوز) پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کے درجنوں نون لیگی اراکین پارلیمنٹ سے رابطے مکمل،31 مئی کے بعد نون لیگ کے کئی بڑے ناموں کا پارٹی چھوڑنے کا امکان ہے ،وفاداریاں بدلنے کے لئے موجودہ حکومت کی مدت مکمل ہونے کا انتظار کیا جا رہا ہے۔

24 نیوز کے مطابق پاکستان میں اس وقت اقتدار میں موجود جماعت کی دیواریں گرنے لگی ہیں۔ آئے روز کوئی نہ کوئی رکن قومی اسمبلی یا رکن صوبائی اسمبلی ن لیگ سے اپنی راہیں جدا  کر رہا ہے۔ جن میں سب سے اہم نام چودھری نثار کا بھی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: پی ٹی آئی کی امیدوں پر پانی پھرنے لگا، ایک ہی دن دو وکٹیں اڑ گئیں
 
انھوں نے بلاشبہ پارٹی سے راہیں جدا نہیں کی ہیں لیکن وہ ن لیگ کے ساتھ بھی نہیں ہیں۔ ان کے آئے دن آنے والے بیانات نے ان کی پارٹی سے وفاداری پر کئی سوالات کھڑے کر دیئے۔ یہی نہیں پارٹی میں اختلافات کے وقت وہ نواز شریف کے ساتھ کندھے سے کندھا ملانے کے بجائے اپنی کانفرنسیں کرنے میں مصروف تھے۔

ذرائع کے مطابق ان دنوں آنے والے الیکشن کے بارے میں بیٹھکیں شروع ہو چکی ہیں۔ تمام پارٹیاں آئندہ اقتدار ہتھیانے کے لیے رابطے تیز کر چکی ہیں۔ جن میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس وقت کوئی بھی نیا سیاسی نام سامنے نہیں آ رہا۔ لہٰذا تمام جماعتیں ایک دوسرے کے اراکین کو توڑنے میں مصروف ہیں۔

ضرور پڑھئے: سیاست کے فیصلے پولنگ اسٹیشن پر ہوتے ہیں عدالتوں میں نہیں، وزیر اعظم پاکستان
اس وقت جو چیز سب سے اہم ہے وہ ن لیگ کی حکومت ہے۔ جس کی مدت پوری ہونے کا انتظار کیا جا رہا ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان تحریک اںصاف ن لیگ کے ساتھ جڑے ہوئے بڑے بڑے ناموں کو اپنی پارٹی کا حصہ بنانے کے لیے پوری طرح کوشاں ہیں۔

24 نیوز کو ملنے والی اطلاعات کے مطابق پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف ن لیگ کے اراکین پارلیمنٹ سے رابطے میں ہیں۔ 31 مئی کے بعد بہت سی وفاداریاں تبدیل ہو جائیں گی۔ شاید ن لیگ کے وفادار بھی اسی تاریخ کے انتظار میں بیٹھے۔

پڑھنا نہ بھولئے: لوگ سمجھتے ہیں میں ٹیک اوورکرنا چاہتاہوں، چیف جسٹس
 
ان تمام تر باتوں میں جو اہم بات ہے، وہ اس حقیقت پر مبنی ہے کہ پاکستان مسلم لیگ ن آئندہ وفاق میں حکومت نہیں بنا پائے گی۔

پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف کے ن لیگ کے ارکان پارلیمنٹ سے رابطے کس حد تک کامیاب رہیں گے۔ کون کس پارٹی میں جائے گا۔ اس حوالے سے اطلاعات کی تصدیق آنے والے چند ہی دنوں میں ہو جائے گی۔