پرائیویٹ سکولوں کو نکیل ڈالنے کیلئے چیف جسٹس میدان میں آگئے


لاہور (24نیوز) سپریم کورٹ لاہوررجسٹری میں سکولوں کی فیسوں سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی،عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا،عدالت نے ہائیکورٹس کے فیصلوں کے خلاف حکم امتناعی کی استدعا مسترد کر دی۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں سکولوں کی فیسوں سے متعلق ہائیکورٹ کے فیصلوں کے خلاف اپیلوں پر سماعت ہوئی۔ عدالت نے فریقین کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا۔ عدالت نے ہائیکورٹس کے فیصلوں کے خلاف حکم امتناعی کی استدعا مسترد کر دی۔ چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی فل بنچ نے سماعت کی. چیف سیکرٹری پنجاب اور ایڈوکیٹ جنرل عدالت پیش ہوئے.

یہ بھی لازمی پڑھیں:کسی کو ضرورت ہے تو جیب سے خریدے:چیف جسٹس،بڑا حکم دے دیا 

  چیف جسٹس ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ یہ سنجیدہ معاملہ ہے عدالت از خود نوٹس لینے بارے سوچ رہی ہے۔ بڑے لوگوں نے اسکولز کھول کر والدین کا استحصال شروع کر رکھا ہے۔ اتنی تنخوا نہیں جتنی والدین کو فیسیں ادا کرنا پڑتی ہیں۔ فیسیں دے کر والدین چیخ اٹھے ہیں۔ تعلیم کاروبار یاں صنعت نہیں بنیادی حق ہے۔  پرائیویٹ اسکول مافیہ نے ملی بھگت کر سرکاری سکولوں کا بیڑا غرق کر دیا ہے۔ 

یہ بھی لازمی دیکھیں:

چیف جسٹس ثاقب نثار کا مزید کہنا تھا کہ نجی اسکولوں کی فرینچائزز کیسے بنی سب کچھ عدالت کے علم میں ہے۔ آگاہ کیا جائے بچوں سے ود ہولڈنگ ٹیکس کس حیثیت سے وصول کیا جارہا ہے۔ اگر اپیل کنندگان کو اس دور میں اپنے بچے پڑھانے پڑتے تو لگ پتہ جاتا ہے۔ سارا کچھ نجی اسکولوں کے مفادات کے لیے کیا گیا ہے۔