العزیزیہ مل کے مالک نواز شریف نہیں ہیں، جے آئی ٹی سربراہ


اسلام آباد(24نیوز) استغاثہ کے گواہ سربراہ پاناما جے آئی ٹی واجد ضیا نے العزیزیہ سٹیل ملز ریفرنس میں جرح کے دوران بتایا ہے کہ جے آئی ٹی کی تحقیقات کے دوران العزیزیہ سٹیل ملز کے قیام کے لیے رقم پاکستان سے بھجوانے کے شواہد نہیں ملے،ایسی کوئی دستاویز نہیں ملی کہ نوازشریف مل کے مالک، شیئر ہولڈر یا ڈائریکٹر رہے ہوں۔

تفصیلا ت کے مطابق احتساب عدالت میں العزیزیہ سٹیل ملز ریفرنس کی سماعت ہوئی۔ سربراہ جے آئی ٹی واجد ضیا کے بیان پر نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے جرح کی ۔ واجد ضیا نے جرح کے دوران خواجہ حارث کے سوالوں کے جواب میں کہا کہ سابق وزیراعظم نواز شریف نے 5 جولائی 2010 سے 30جون 2011 تک اپنے بیٹے حسین نواز سے 11 لاکھ 50 ہزار 469 امریکی ڈالرز بطور تحفہ وصول کیے۔ یہ 18 اکتوبر 2012 تک غیر ملکی کرنسی اکاونٹ میں جمع رہی۔تاہم ویلتھ سٹیٹمنٹ میں یہ رقم پاکستانی روپوں میں ظاہر کی گئی۔

یہ بھی لازمی پڑھیں:پرائیویٹ سکولوں کو نکیل ڈالنے کیلئے چیف جسٹس میدان میں آگئے 

 واجد ضیا نے مزید بتایا کہ دوران تفتیش ایسی کوئی دستاویزنہیں ملی کہ نوازشریف العزیزیہ کے مالک، شیئر ہولڈریا ڈائریکٹر رہے۔ ایسی بھی کوئی دستاویزنہیں ملی جوظاہرکرے کہ نوازشریف العزیزیہ مل کا کاروبار چلاتے یا مالی معاملات دیکھتے رہے ہیں۔ نوازشریف کے العزیزیہ سٹیل ملز کے لیے بنکوں یا مالیاتی اداروں سےڈیل کے بھی کوئی ثبوت نہیں ملے ۔ ایسا کوئی  دستاویزنہیں کہ نواز شریف نےالعزیزیہ سٹیل ملز سے متعلق کسی دستاویزپر کبھی دستخط کیےہوں۔

واجد ضیا کا کہنا تھا کہ شہباز شریف نے بتایا تھا کہ حسین نواز، نواز شریف کی طر ف سے شیئر ہولڈر رہے۔ شیئرہولڈر بھی مالک ہونے کی ایک قسم ہوتی ہے۔ دوگواہوں شہبازشریف اورنوازشریف نےخود بالواسطہ اشارہ دیا کہ نوازشریف شیئرہولڈرہیں۔ انہوں نے بیان دیا کہ العزیزیہ سٹیل ملز میاں شریف نےقائم کی۔ میاں شریف نے حسین نواز،رابعہ شہباز اورعباس شریف کو شیئرہولڈر بنایا۔ واجد ضیا نے عدالت کو مزید بتایا کہ یہ درست ہے شہباز شریف کے بیان مطابق اگر مل فروخت ہوئی تو وہ رقم حسین نواز کو جائے گی۔ جےآئی ٹی کو ایسی کوئی دستاویزنہیں ملی جو ظاہر کرے کہ نوازشریف نےمل کےقیام میں حصہ ڈالا ہو۔ جےآئی ٹی کوایسی دستاویزیا زبانی شواہد نہیں ملےجو ظاہرکرے کہ العزیزیہ سٹیل ملز کے قیام کے لیے رقم پاکستان سےبھجوائی گئی۔

یہ بھی ضرور پڑھیں:نگران وزیر اعلیٰ:پی ٹی آئی دو نئے نام لے آئی 

 علاوہ ازیں جرح کے دوران نیب پراسیکیوٹر کے بولنے پر خواجہ حارث نے اعتراض کیا کہ آپ کیوں بول رہے ہیں؟ واجد ضیا بچے تو نہیں ۔ پھر جج کو مخاطب کیا کہ آپ بیٹھے ہیں، واجد ضیا خود موجود ہیں پھریہ کیوں بول رہے ہیں؟العزیزیہ اسٹیل ملز کی مزید سماعت 1 جون تک ملتوی کر دی گئی۔