ہم  نے میاں صاحب کو دل پر پتھررکھ کر قبول کیا: آصف زرداری


اسلام آباد ( 24نیوز ) سابق صدر آصف علی زرداری نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے ملک کی خاطر سب کو مل بیٹھنے کی دعوت دے دی۔ انہوں نے کہا کہ ہم ملک کو ہرمشکل سے نکالنے کوتیار ہیں، اب آپ اپوزیشن کے موڈ سے نکل کرحکومت کے موڈ میں آؤ، ہم  نے میاں صاحب کو دل پر پتھررکھ کر قبول کیا۔

سابق صدر کا کہنا تھا کہ معاف کرنا میاں صاحب آج  بھی آپ کے منہ سے پیپلزپارٹی نکلا، ایک دوسرے کو اونچا نیچا دکھانا چھوڑ دیں، سب مل کر ملک کے مسائل کا حل نکالیں۔20 سال جیل کاٹی کچھ ثابت نہ کرسکے۔ جمہوریت میں کمزوریاں ضرور ہیں مگر ملکی ترقی کے لیے ایک ہونا ہوگا۔

آصف علی زرداری کا اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ بہت ہو گیا، میں نے بارہ سال جیل کاٹی۔ آصف زرداری کا میاں شہباز شریف سے مکالمہ کرتے ہوئے کہ آج بھی میاں صاحب آپ کے منہ سے پیپلز پارٹی نکل گیا تھا۔ اب میری عمر تریسٹھ سال ہو گئی، آپ کی بھی اتنی ہی ہو گئی ہو گی۔

سابق صدر کا کہنا تھا کہ پڑھے لکھے جاہلوں کو نہیں پتا جنہیں پرویز مشرف ٹیکنوکریٹ بنا کر لایا۔ ہمارے دور میں چینی اور گندم کا بحران تھا جسے ہم نے ختم کیا۔ کراچی کو پانی کا مسئلہ ہے، تو ہمیں سب کو مل کر بیٹھنا ہو گا۔ ڈیم ضرور بنائیں لیکن پہلے اس کی کنزرویشن کے لیے بھی اقدامات کریں۔ پاکستان پر قرضے کو قرضہ نہیں سمجھتا۔ ساتھ مل کر کام کرنا چاہئیے۔

  آصف زرداری کا کہنا تھا کہ پانچ سال میں ہم آپ کی سپورٹ کریں گے۔ ہم آپ کو اس معاملہ سے بھی نکالیں گے کہ حکومتی موڈ میں آئیں۔ اب بھی اگر کچھ نہ کیا تو مشکلات مزید بڑھیں گی۔ ایک سال میں گندم کی پیداوار میں اضافہ کیا۔ شوگر ایکسپورٹ کی۔  ان کا کہنا تھا کہ مشرف پڑھے لکھے جاہلوں کو لے آئے تھے انہیں کیا پتہ یہاں کے مسائل کا۔ ملکی مسائل کا حل انہیں پتا ہے جو یہاں رہتے ہیں۔ ڈیزل اور پٹرول کی بچت سے کچھ نہیں ہو گا۔ ہمارے یہاں کہاوت ہے اگر بھینس اپنی نتھ کھا لے تو اس کا پیٹ نہیں بھرے گا۔

سابق صدر کا کہنا تھا کا مزید کہنا تھا کہ میاں صاحب ہم نے اور آپ نے مزید کتنا جی لینا ہے۔ ایک دوسرے کو اونچا نیچا کرنا چھوڑ دیں۔ شارٹ ٹرم ٹرانزیکشن سے کچھ نہیں بننے والا۔ معاف کرنا میاں صاحب آج بھی آپ کے منہ سے پیپلز پارٹی نکل گئی۔ ہم نے سندھ کے اندر راول ڈیم بنایا۔ ڈیمز کے معاملے پر حکومت کا مکمل ساتھ دیں گے۔ ڈیم بنائیں اچھی بات ہے لیکن اتفاق رائے سے۔آئیں اپوزیشن کے ساتھ بیٹھیں، غلط کو غلط کہنا ہوگا۔ پاکستان کے لیے ساتھ چلنے میں ہماری کوئی عزت بے عزتی نہیں۔ بات کا پیمانہ انصاف پر مبنی ہونا چاہیے۔

شازیہ بشیر

   Shazia Bashir   Edito