عمران فاروق قتل کیس: 3سال سے پاک برطانیہ ڈیڈ لاک ختم


اسلام آباد(24نیوز) ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس کے معاملے پر برطانیہ اور پاکستان کے درمیان ڈیڈ لاک ختم ہوگیا۔  برطانیہ پاکستان کو مشروط قانونی معاونت اور ٹیم لندن بھجوانے کے لئے آمادگی ظاہر کردی۔

لندن میں قتل کئے جانے والے ایم کیو ایم کے رہنما ڈاکٹر عمران فاروق کا مقدمہ پاکستان میں درج،  تین ملزموں کو گرفتار کیا گیا  لیکن جب ثبوتوں کی باری آئی تو سکارٹ لینڈ یارڈ نے صاف انکار کردیا اور یوں دونوں حکومتوں کے درمیان یہ معاملہ تین سال تک زیر بحث رہا اور بالاخر برطانیہ نے کیس میں تعاون کی یقین دہانی کروادی ہے۔

پڑھنا مت بھولیں: کپتان خوبصورتی کی دوڑ میں شامل

 ذرائع کا کہنا ہے کہ برطانیہ نے ایف آئی اے کی چار رکنی ٹیم کو ثبوتوں اور قانونی معاونت کے لئے لندن روانگی کی اجازت بھی دے دی ہے ۔  ٹیم کے ایک ممبر پراسیکیوٹر خواجہ امتیاز 5 اگست کو برطانیہ روانہ ہونگے۔ذرائع کے مطابق ایف آئی اے ٹیم سکارٹ لینڈ یارڈ کروان پراسیکیوشن اور میٹرو پولٹین پولیس سے ملاقاتیں کرے گی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ایف آئی اے ٹیم ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس کی عدالتی کاروائی اور تحقیقات میں ہونے والی پیش رفت سے آگاہ کرے گی۔ 

یہ بھی پڑھیں: شیخ رشید کو بڑی خوشخبری مل گئی

ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی تحقیقاتی ادارے کی جانب سے سکارٹ لینڈ یارڈ کو باقی ٹرائل لندن کی عدالت میں چلانے اور تینوں ملزموں کی حوالگی کے لئے بھی قائل کرنے کی کوشش کی جائے گی اور اس حوالے لندن میں قانونی ماہر بیرسٹر ٹو بی کیڈمین کی خدمات بھی حاصل کرلی گئی ہیں ۔

وقار نیازی

سٹاف ممبر، یونیورسٹی آف لاہور سے جرنلزم میں گریجوایٹ، صحافی اور لکھاری ہیں۔۔۔۔