اٹھارہ ہزار سال پرانا کتا دریافت

اٹھارہ ہزار سال پرانا کتا دریافت


لاہور(ویب ڈیسک)دنیا میں ایک ایسا کتا بھی پایا جاتا ہے جو اٹھارہ ہزار سال پرانا ہے،یہ کتا سائبیریا کے علاقے میں دریافت ہوا ہے۔اس کتے کی موجودگی نے سائنسدانوں کو حیران کردیا ہے۔

تحقیق سے پتا چلا ہے کہ اس کی موت تقریباً دو ماہ کی عمر میں ہوئی تھی اور یہ روس کے برفانی میدانوں میں حیرت انگیز طور پر صدیوں تک محفوظ رہا ہے۔ یہاں تک کہ اس کی بالوں سے بھری جلد، ناک اور دانت تک محفوظ ہیں۔سائنسدانوں نے اس کے ڈی این اے کا موازنہ دیگر معلوم جانوروں سے کیا ہے مگر وہ اس کی نوع کا پتا لگانے میں ناکام رہے ہیں۔چنانچہ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ممکنہ طور پر یہ جانور بھیڑیوں اور جدید کتوں کے درمیان کی ارتقائی نسل سے تعلق رکھتا ہو۔

ریڈیو کاربن ڈیٹنگ کی تکنیک کے ذریعے سائنسدانوں نے یہ معلوم کیا کہ مرنے کے وقت اس کی عمر کیا تھی اور اس کو منجمد ہوئے کتنا عرصہ گزر چکا ہے۔اس کے جینیاتی تجزیے سے معلوم ہوا ہے کہ یہ ایک نر تھا۔

اس پِلّے کو ’ ڈوگور ‘ کا نام دیا گیا ہے جس کا مطلب روس میں بولی جانے والی یاکوٹ زبان میں ’دوست‘ ہے۔ اس کے علاوہ یہ ’ڈوگ اور وولف؟‘ ( کتا یا بھیڑیا؟) سوال کا ابتدائی حصہ بھی ہے۔جدید کتوں کے بارے میں مانا جاتا ہے کہ وہ بھیڑیوں کی نسل سے تعلق رکھتے ہیں مگر اس بات پر بحث کی جاتی رہی ہے کہ کتوں کو انسان نے سدھا کر اپنے کام میں لانا کب شروع کیا۔سنہ 2017 میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق انسانوں نے یہ عمل 20 ہزار سے 40 ہزار سال پہلے کیا ہو گا۔