غلطی کے بعد توبہ کاطریقہ بھی موجود ہے؛چیف جسٹس کا نہال ہاشمی کو مشورہ

غلطی کے بعد توبہ کاطریقہ بھی موجود ہے؛چیف جسٹس کا نہال ہاشمی کو مشورہ


اسلام آباد(24نیوز) سپریم کورٹ میں آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت نااہلی کی مدت کے تعین سےمتعلق کیس میں نہال ہاشمی کی نااہلی کا بھی تذکرہ،چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیے کہ نااہل شخص کو غلطی اور گناہ کا اعتراف کرنا ہوگا، غلطی تسلیم کریں گے تومعافی ہوگی،آیندہ سماعت پر سابق وزیراعظم نوازشریف کے وکیل اور عدالتی معاون علی ظفر دلائل دینگے۔

تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ وکیل کامران مرتضی نے کہاکہ میں بطور وکیل نہال ہاشمی کو سزا ہونے پر ڈسٹرب ہوں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ پریشان نہ ہوں آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت نااہلی ایک ٹرم کیلئے ہوگی۔ اگلا ضمنی الیکشن لڑسکتا ہے۔ جسٹس شیخ عظمت سعید نے ریمارکس میں کہا کہ جب تک ڈیکلریشن موجود رہے گا۔ بددیانتی بھی رہے گی۔ کامران مرتضی نے کہا کہ ڈیکلریشن کاغذات نامزدگی کے وقت کردار سے متعلق ہوگا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ یہی جائزہ لینا ہے کہ ڈیکلریشن کا اطلاق کب تک ہوگا ؟ چیف جسٹس پاکستان نے کہا غلطی کے بعد توبہ کاطریقہ بھی موجود ہے۔ پہلے عدالت میں غلطی اور گناہ کا اعتراف کرنا ہوگا پھر عوام سے بھی معافی مانگنا ہوگی۔ کوئی کہے کہ اس کے ساتھ ظلم ہوا ہے تو سب سے پہلے ڈیکلریشن تسلیم کیا جائے۔

دوسری جانب جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ امیدوار کا غلط بیانی کرنا ووٹر سے غلط بیانی ہوتی ہے۔ چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دئیے کہ پارلیمنٹ سپریم ہے۔پاکستانی ڈری ہوئی قوم نہیں اس لئے منتخب نمائندے بھی ڈرپوک نہیں ہونے چاہئے۔واضح رہے کہ چیف جسٹس نے کیس کی سماعت بدھ تک ملتوی کر دی ہے۔