کرشنا کماری، تھر ننگر پارکر کی سینیٹ کی پہلی خاتون امیدوار


کراچی (24 نیوز) پیپلزپارٹی نے ایک بار پھر تاریخ رقم کردی ہے۔ ایوان بالا میں اقلیتوں کی پہلی خاتون کو ملک کے اعلیٰ ترین ایوان سینیٹ میں ایک غریب پڑھی لکھی ہندو مذہب میں نچلی ذات کی ایک خاتون کرشنا کماری کو سینیٹ الیکشن کے لیے نامزد کردیا ہے۔ کرشنا کمار سینیٹ کے لیے پیپلز پارٹی کی جانب امیدوار ہیں، جن کی جیت کو یقینی قرار دیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ کرشنا کماری ایک سماجی رہنماء ہیں جنہوں نے پیپلز پارٹی میں اپنے بھائی کے ہمراہ شمولیت اختیار کی تھی۔ کرشنا کماری کے بھائی پیپلز پارٹی کی جانب سے منتخب یونین کونسل بیرونو کے صدر کے عہدہ پر فائز ہیں۔ چاغو کولھی قبیلے کے ایک غریب خاندان میں فروری 1979 میں پیدا ہونے والی کرشنا کماری اور ان کے اہل خانہ نے تقریباً 3 سال تک ضلع عمر کوٹ کے علاقہ کنری کے زمیندار کے نجی جیل میں گزارا۔

یہ بھی پڑھیں۔ڈاکٹر اسد اشرف سینیٹر منتخب، لیگی اراکین ووٹ ڈالنے بھی نہ آئے

قید کے وقت کرشنا کماری تیسری جماعت کی طالبہ تھیں۔ کرشنا کماری کی 16 سال کی عمر میں لال چند سے شادی ہوگئی تھی اور اس وقت وہ نویں جماعت کی طالبہ تھیں تاہم ان کے شوہر نے انہیں تعلیم حاصل کرنے میں مدد کی۔ کرشنا کماری نے 2013 میں انہوں نے سندھ یونیورسٹی سے عمرانیات میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔ انہوں نے تھر اور اس سے منسلک دیگر علاقوں کے مقامیوں کے حقوق دلانے کیلئے مہم میں بھی شرکت کی۔