سورج آنکھیں دکھانے لگا


کوئٹہ( 24نیوز )ملک بھر میں سورج آنکھیں دکھانے لگا،شدید گرمی سے پارہ چڑھ گیا،شہری پریشان جبکہ لوڈشیڈنگ نے بھی اپنے رنگ دکھانے شروع کردیے۔
بلوچستان کے مختلف میدانی علاقے آج کل شدید گرمی کی لپیٹ میں ہیں اور گذشتہ ماہ مارچ میں صوبے کے مختلف علاقوں میں گرمی کے کئی سالہ ریکارڈ ٹوٹ گئے،محکمہ موسمیات کے ریکارڈ کے مطابق 29 مارچ کو بلوچستان کے تین علاقوں لسبیلہ، تربت اور نوکنڈی میں ریکارڈ گرمی پڑی،لسبیلہ میں گرمی کا 34 اور تربت اور نوکنڈی میں گرمی کا 8، 8 سال کا ریکارڈ نہ صرف ٹوٹا بلکہ ان علاقوں میں زیادہ سے زیادہ گرمی کے نئے ریکارڈ بن گئے۔

کشمیر میں بھارتی درندگی کی انتہا،شہداءکی تعداد 17ہوگئی
لسبیلہ میں 29 مارچ کو زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 44 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا، اس سے قبل لسبیلہ میں سب سے زیادہ گرمی 30 مارچ 1984 کو پڑی تھی جب یہاں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 43 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا تھا۔
29 مارچ 2018کو تربت میں پارہ 44 اعشاریہ پانچ ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا تھا، اس سے قبل تربت میں 16 مارچ 2010کو سب سے زیادہ گرمی پڑی تھی۔ محکمہ موسمیات کے ریکارڈ کے مطابق 16 مارچ 2010 کو تربت میں درجہ حرارت 42 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا تھا،صوبے کے ایک اور علاقے نوکنڈی میں بھی 29 مارچ 2018 کو زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 40 ڈگری تک پہنچ گیا تھا جبکہ اس سے قبل نوکنڈی میں 18مارچ 2010 کو درجہ حرارت 38 اعشاریہ 6 ڈگری ریکارڈ کیا گیا تھا۔
محکمہ موسمیات نے رواں موسم گرما کے دوران صوبے کے بیشتر علاقوں میں عمومی طور پر گرمی کی شدت زیادہ رہنے کا امکان ظاہر کیا ہے۔

اظہر تھراج

صحافی اور کالم نگار ہیں،مختلف اخبارات ،ٹی وی چینلز میں کام کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں