پی سی بی نے پی ایس ایل کو بدنام کرنے کی سازش ناکام بنا دی

پی سی بی نے پی ایس ایل کو بدنام کرنے کی سازش ناکام بنا دی


 شارجہ (24نیوز) پی ایس ایل کو بدنام کرنے کی ایک اور سازش ناکام ہوگئی۔  پی سی بی نے ایک بکی کی تصویر جاری کر دی۔ عمر نامی بکی کا تعلق بنگلا دیش سے ہے۔ پی سی بی نے ہدایت کی ہے کہ تمام کھلاڑی عمر نامی بکی سے رابطہ نہ کریں۔

دبئی میں پاکستان سپر لیگ کے تیسرے ایڈیشن کے دوران بھی سٹے بازوں نے سپاٹ فکسنگ کی ایک اور کوشش کی اور اس بار کھلاڑیوں سے رابطے کا ذریعہ سوشل میڈیا ویب سائٹس تھیں جسے پاکستان کرکٹ بورڈ کے اینٹی کرپشن یونٹ نے ناکام بنا دیا۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے تفتیش کاروں نے انٹیلی جنس نیٹ ورک کے ذریعے  شواہد حاصل کیے ہیں، ان شواہد کے  مطابق ان سٹے بازوں کا تعلق بھارت اور بنگلہ دیش سے ہے، جنہوں نے پاکستان سپر لیگ کے دوران کم از کم تین ٹیموں کے کھلاڑیوں سے واٹس ایپ اور فیس ٹائم کے ذریعے رابطہ کیا تھا، لیکن تینوں کرکٹرز نے فوری طور پر اس واقعے کو رپورٹ کردیا ہے۔ دونوں سٹے باز دبئی میں دکھائی دیئے ہیں تاہم ابھی تک ٹیم ہوٹلوں سے دور ہیں۔

کھلاڑیوں نے اس واقعے کی رپورٹ اپنی ٹیموں اور پاکستان کرکٹ بورڈ کے کرنل اعظم کو  دی تھی جس کے بعد انسداد کرپشن یونٹ فوری ایکشن میں آیا ہے۔انسداد کرپشن یونٹ نے تمام ٹیموں کے کھلاڑیوں کو نئی بریفنگ دی جس میں بتایا گیا کہ دونوں سٹے بازوں کی دبئی آمد کی اطلاع ہے۔ بریفنگ میں ایک سٹے باز کی تصویر بھی دکھائی گئی اور کھلاڑیوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ ان میں سے کوئی بھی شخص ٹیم ہوٹل کے ارد گرد دکھائی دے تو اس کی فوری رپورٹ پاکستان کرکٹ بورڈ کو کردی جائے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ خوش ہے کہ اس بار کھلاڑیوں نے ذمے داری دکھائی ہے تاہم کھلاڑیوں کے گرد گھومتے اس گروہ کے اراکین، پی سی بی کے لیے تشویش کا باعث ہیں۔بورڈ پر امید ہے کہ انٹیلی جنس نیٹ ورک کے ذریعے انسداد کرپشن کے اقدامات مزید موثر اور مربوط ہوں گے۔

دوسری جانب پی ایس ایل چیئرمین نجم سیٹھی اور پی سی بی اینٹی کرپشن یونٹ کے حکام آئی سی سی کی معاونت سے پورے سسٹم کو مانیٹر کر رہے ہیں۔ ٹورنامنٹ کے اختتام تک کھلاڑیوں کو نجی دوروں کی اجازت نہیں ہے اور وہ صرف ٹیم کے ساتھ ہی کہیں جا سکتے ہیں۔کسی مہمان کے آنے کی صورت میں بھی کھلاڑی اس سے صرف ٹیم ہوٹل میں ہی ملاقات کر سکتے ہیں۔اینٹی کرپشن یونٹ کی ہدایات کے مطابق کرکٹرز کو ہوٹل سے باہر جانے کی صورت میں سیکیورٹی افسر کو مطلع کرنا ہوتا ہے جو ان کے ساتھ جاتا ہے۔ پی سی بی نے تمام کھلاڑیوں کو نئے سم کارڈز بھی دیئے ہیں جس کا تمام تر ڈیٹا ریکارڈ کیا جارہا ہے، جس کی بورڈ کا اینٹی کرپشن یونٹ مستقل نگرانی کر رہا ہے۔

واضح رہے کہ گذشتہ سال سپاٹ فکسنگ اسکینڈل کی وجہ سے پانچ کرکٹرز شرجیل خان، خالد لطیف، محمد عرفان، شاہ زیب حسن اور ناصر جمشید کو سزائیں اور بھاری جرمانے ہوچکے ہیں۔