ایک شخص کے لیے قانون سازی عدالت کو آنکھیں دکھانے کے مترادف ہے: چیف جسٹس


اسلام آباد (24 نیوز) ایک شخص کے لیے قانون سازی عدالت کو آنکھیں دکھانے کے مترادف ہے۔ جو کنگ بننے کا اہل نہ ہو اسے کنگ میکر بننے کے لیے فری ہینڈ نہیں دیا جا سکتا۔ سپریم کورٹ نے الیکشن ایکٹ دو ہزار سترہ سے متعلق تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا۔

24 نیوز کے مطابق سپریم کورٹ نے الیکشن ایکٹ 2017 سے متعلق 51 صفحات پر مشتمل کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا۔ چیف جسٹس آف پاکستان کے تحریر کردہ فیصلہ میں کہا گیا ہے کہ الیکشن ایکٹ 2017 میں ایسی کوئی شق نہیں تھی کہ نااہلی کے بعد کوئی پارٹی صدر رہ سکے۔

یہ بھی پڑھئے:  ن لیگ کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس، چودھری نثار جان بوجھ کے شریک نہ ہوئے 

عدالتی فیصلہ کے مطابق جو شخص بادشاہ بننے کے لیے نااہل ہو اسے کنگ میکر بننے کے لیے فری ہینڈ نہیں دیا جا سکتا۔ ایک شخص کے لیے کی گئی قانون سازی عدالت کو آنکھیں دکھانے کے مترادف ہے۔

تفصیلی فیصلہ میں واضح کیا گیا ہے کہ پاناما فیصلہ میں نواز شریف کو نااہل کیا گیا۔ نااہلی کے بعد نوازشریف پارٹی صدارت سے بھی فارغ ہو گئے۔ دنیا بھر میں پاناما لیکس کی وجہ سے متعدد عالمی رہنماؤں نے استعفے دیئے۔ نواز شریف نے قوم سے خطاب اور پارلیمنٹ کے اندر مختلف وضاحتیں پیش کیں۔

واضح رہے کہ نوازشریف کی بطور پارٹی صدر نااہلی کے بعد (ن) لیگ شہبازشریف کو قائم مقام پارٹی صدر منتخب کرچکی ہے جب کہ میاں نوازشریف کو تاحیات قائد بنایا گیا ہے۔