کوئی طاقت نیب کو ڈکٹیٹ نہیں کرسکتی: جسٹس (ر) جاوید اقبال



ملتان (24نیوز)چیئرمین قومی احتساب بیورو جسٹس (ر) جاوید اقبال نے کہا ہے کہ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ نیب اور معیشت ساتھ نہیں چل سکتے وہ غلط کہتے ہیں، نیب اور معیشت ساتھ چل سکتے ہیں اور کوئی طاقت نیب کو ڈکٹیٹ نہیں کرسکتی۔

ملتان میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین نیب نے کہا کہ بدعنوان عناصر کے خلاف قانون ضرور حرکت میں آئے گا اور جو لوٹ مار کرے گا، اسے نیب کی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔  نیب اور کرپشن ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے، ان دنوں بہت سے سقراط اور بقراط پیدا ہوگئے ہیں جنہوں نے نیب کا قانون ہی نہیں پڑھا، چند دن پہلے ایک صاحب نے کہا کہ نیب منی لانڈرنگ کا ادارہ ہے، نیب اگر منی لانڈرنگ کرے گا تو وہ عوام کے لیے ہوگی، پیرس میں جائیداد بنانے کے لیے نہیں۔

چیئرمین نیب نے کہا کہ نیب کالا قانون ہوتا تو سپریم کورٹ اسے ختم کردیتی، یہ ان لوگوں کے لیے کالا قانون ضرور ہے جو ڈکیتیوں میں مصروف ہیں، کالک ان ہاتھوں میں ہوتی ہے جو قانون کا غلط استعمال کرتے ہیں۔ نیب قانون کسی اور پر لاگو ہو تو ٹھیک اور جب آپ پر آئے تو یہ کالا قانون ہو جاتا ہے، جب تک نیب موجود ہے وہ اس قانون کے مطابق فرائض انجام دیتی رہے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ نیب کے پلی بارگین قانون میں اصلاح کی گنجائش موجود ہے، وہ دور گزر گیا جب بدعنوانی اور کرپشن کی چشم پوشی کی جاتی تھی، نیب جو بھی قدم اٹھائے گی قانون اور آئین کے مطابق اٹھائے گی۔  نیب کے خلاف مذموم پروپیگنڈا کیا جارہا ہے، کسی کےذہن میں یہ نہ رہے کہ نیب چوری پر آنکھیں بند کر لےگا، اب لوگ ڈاکہ زنی کرنے سے پہلے ایک دفعہ سوچتے ضرور ہیں کہ کہیں نیب کو پتہ نہ چل جائے، بدعنوانی نہ ہوتی تو پاکستان کو قرض نہیں لینا پڑتا۔

جسٹس (ر) جاوید اقبال نے کہا کہ نیب پر الزام لگایا جاتا ہے کہ سب سے زیادہ پنجاب میں ایکشن لیا جاتا ہے، پنجاب میں لوگ سالہا سال سے برسر اقتدار رہے اور یہ ملک کا سب سے بڑا صوبہ ہے اور سب سے زیادہ منصوبوں پر یہیں کام ہوا ہے۔ وفاق اور پنجاب کی بیورو کریسی نیب کے خلاف کوئی کیس نہیں لاسکی، نیب پر تنقید ضرور کریں لیکن وہ مثبت ہونی چاہیے، نہ پہلے کبھی شوق سے ہتھکڑی لگائی ہے نہ آئندہ لگائیں گے، ہماری واحد خواہش کرپشن سے پاک پاکستان ہے۔

چیئرمین نیب نے عوام کو تاکید کی کہ وہ ہاؤسنگ اسکیم میں سرمایہ کاری سے پہلے چھان بین کرلیا کریں، تمام ہاؤسنگ سوسائٹیز کو خبردار کرتا ہوں کہ لوگوں کا لوٹا ہوا مال واپس کردیں۔

اظہر تھراج

Senior Content Writer