سابق صدر پرویز مشرف کو کھلی چھوٹ مل گئی



اسلام آباد( 24نیوز )سابق پرویز مشرف کیخلاف سپریم کورٹ میں مقدمے کی سماعت ہوئی ،چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے قومی مفاہمتی آرڈیننس ( این آر او) کیس میں جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کی واپسی کے معاملے پر سماعت کی۔

عدالت نے یہ بھی حکم دیا کہ سپریم کورٹ میں این آر او کیس میں پیشی سے قبل پرویز مشرف کو کسی کیس میں گرفتار نہ کیا جائے اور وہ جس ایئر پورٹ پر اتریں انہیں رینجرز کی سکیورٹی فراہم کی جائے،چیف جسٹس نے ریمارکس دیے یہ نہیں ہوسکتا پرویز مشرف اعلیٰ عدلیہ کے بلانے پر نہ آئیں، ایسا نہ ہو کہ ان حالات میں آنا پڑے جو عزت دارانہ طریقہ نہ ہو۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ اتنا جید، بہادر کمانڈو عدالتوں کا سامنا کرنے سے کیوں گھبراتا ہے, وہ باہر بیٹھے رہیں گے تو ہم ریڈ وارنٹ جاری کرتے رہیں گے۔

سابق صدر کے وکیل اختر شاہ نے عدالت کو بتایا کہ 27 ستمبر کو میں نے پرویز مشرف سے بات کی ہے اور انہوں نے وعدہ کیا ہے کہ وہ آئیں گے،وکیل نے کہا کہ پرویز مشرف کو سنجیدہ نوعیت کی بیماری ہے، انہیں طبی اور سکیورٹی مسائل ہیں، لال مسجد کیس میں انہیں سکیورٹی کے لئے کہا گیا ہے۔

سپریم کورٹ نے سابق صدر پرویز مشرف کو وطن واپسی پر گرفتار نہ کرنے کا حکم دیا ہے، پرویز مشرف کے وکیل نے اختر شاہ کا 25 ستمبر کو ہونے والی سماعت کے دوران کہنا تھا کہ اگر پرویز مشرف کے بیرون ملک آنے جانے پر پابندی نہ لگائی جائے تو وہ پیش ہوسکتے ہیں،وکیل نے سابق صدر کے اثاثوں کی تفصیلات بھی عدالت کے روبرو پیش کی جس کے مطابق پرویز مشرف کی پاکستان میں کوئی جائیداد نہیں، دبئی میں 54 لاکھ درہم کا فلیٹ ہے اور چک شہزاد میں 5 سے 6 ایکڑ کا فارم ہاوس ان کی اہلیہ کے نام ہے، سپریم کورٹ نے سابق صدر پرویز مشرف کی وطن واپسی پر انہیں کسی بھی مقدمے میں گرفتار نہ کرنے کا حکم دیا ہے۔ اس موقع پر چیف جسٹس پاکستان نے پرویز مشرف کے وکیل کو حکم دیا کہ وہ ان کی وطن واپسی سے متعلق 11 اکتوبر تک جواب جمع کرائیں۔

یاد رہے کہ گزشتہ سماعت پر چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیے تھے کہ پرویز مشرف ریڑھ کی ہڈی کے درد کا بہانہ کر کے نکل گئے، باہر جاکر ڈانس کرتے ہیں، جنرل صاحب پاکستان کیوں نہیں آتے، یہاں سی ایم ایچ کے بہترین ڈاکٹر سے ان کا علاج کروائیں گے۔

خیال رہے کہ سابق صدر پرویز مشرف نے 5 اکتوبر 2007 کو قومی مفاہمتی آرڈیننس جاری کیا جسے این آر او کہا جاتا ہے، 7 دفعات پر مشتمل اس آرڈیننس کا مقصد قومی مفاہمت کا فروغ، سیاسی انتقام کی روایت کا خاتمہ اور انتخابی عمل کو شفاف بنانا بتایا گیا تھا جب کہ اس قانون کے تحت 8 ہزار سے زائد مقدمات بھی ختم کیے گئے۔