قومی اسمبلی اجلاس،تلخ جملوں کا تبادلہ،اپوزیشن واک آﺅٹ کرگئی



اسلام آباد( 24نیوز )پارلیمنٹ ہاﺅس میں قومی اسمبلی کا اجلاس جاری ہے جس میں ارکان اسمبلی مختلف مسائل پر تقاریر کررہے ہیں،وزیر اعظم عمران خان بھی ایوان میں موجود ہیں،ارکان نے ڈیسک بجا کر وزیر اعظم کا استقبال کیا۔

 پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں وزیراعظم سے صدرپی ٹی آئی سندھ امیربھٹو اور رکن سندھ اسمبلی حلیم عادل شیخ نے ملاقات کی۔ اس موقع پروزیراعظم کے معاون خصوصی نعیم الحق، افتخار درانی اور سیکرٹری جنرل ارشد داد بھی موجود تھے۔

وزیراعظم نے پی ٹی آئی سندھ کے صدراورسیکرٹری جنرل پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ہدایت کی کہ پارٹی کے منشورپرعمل اورپالیسیوں کے تسلسل کو جاری رکھا جائے۔

اس موقع پرصوبہ سندھ سے متعلق مختلف امورپرتبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیراعظم عمران خان نے تھرکی صورتحال پرتشویش کا اظہارکرتے ہوئے پارٹی رہنماؤں کوہدایت کی کہ وہ جلد ازجلد تھرکا دورہ کرکے صحت عامہ کے مسائل پرعوام کوریلیف فراہم کریں۔

وزیراعظم نے کہا کہ حکومت سندھ اورسندھیوں کے حقوق کا تحفظ کرے گی، پی ٹی آئی سندھ کے کارکن ہمارا سرمایہ ہیں، ان کے حقوق کا تحفظ کیا جائے گا، وزیراعظم نے پی ٹی آئی کی مقامی قیادت کویونین کونسل سطح پرمنظم کرنے اور آئندہ بلدیاتی انتخابات کی تیاری کی ہدایت بھی کی۔

مسلم لیگ (ن) نے رکن ڈاکٹر عباد اللہ نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا خیبرپختونخوا کے اساتذہ 15 ماہ سے تنخواہیں نہ ملنے پر احتجاج کر رہے ہیں، نیب (ن) لیگ احتساب بیورو بن چکی ہے۔

ڈاکٹر عباداللہ نے کہا بھینسوں کی فروخت کے اشتہار پر35 لاکھ لگائے جبکہ ملے 23 لاکھ، اس موقع پر حکومتی اراکین نے شور مچایا تو ڈاکٹر عباداللہ نے کہا گزارا کر لیں اپنی باری پر بول لیں، میں اکیلا (ن) لیگ کے ٹکٹ پر اکیلا پختون منتخب ہو کے آیا ہوں، جو نظر آتے تھے انہیں بھی ہرایا اور جو نظر نہیں آتے تھے انہیں بھی ہرایا۔

ایوان میں گرما گرمی بڑھنے پر لیگی ایم این اے کا مائیک بند کردیا گیا جس پر (ن) لیگ کے اراکین نے احتجاج کرنا شروع کردیا،مائیک بند کیے جانے پر اپوزیشن واک آﺅٹ کرگئی ۔

اس موقع پر وزیر دفاع پرویز خٹک نے اپوزیشن ارکان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا اگر آپ شور کریں گے تو ہم بھی آپ کو بات نہیں کرنے دیں گے، اپنے کرتوتوں کو بھی دیکھ لیں،رکن قومی اسمبلی حنا ربانی کھر نے اپنی باری پر بات کرتے ہوئے کہا کہ احتساب کا ڈھول بجانے والے پبلک اکاونٹس کمیٹی کی سربراہی اپوزیشن کو دینےکو تیار نہیں، بجلی اور گیس کی قیمتیں بڑھا کر کہتے ہیں غریب متاثر نہیں ہوگا، یہ بڑا جھوٹ ہے، اپوزیشن میں بیٹھ کر پیٹرولیم ٹیکسز کی بات کرنے والے وزیر خزانہ اسد عمر اب ٹیکس کیوں کم نہیں کرتے، مراد سعید نے کہا کہ سمت کی درستگی پوچھنے والے بتائیں پی آئی اے کا طیارہ ہمارے دور میں چوری ہوا اور کیا منی لانڈرنگ ہمارے دور میں شروع ہوئی۔