صحافیوں کی ویڈیوز بنانےکا معاملہ، ہائیکورٹ کا وارڈنز کیخلاف سخت نوٹس

صحافیوں کی ویڈیوز بنانےکا معاملہ، ہائیکورٹ کا وارڈنز کیخلاف سخت نوٹس


لاہور(24نیوز) لاہور ہائیکورٹ نےوارڈنز کی جانب سےصحافیوں کی وڈیوزبنانےکاسخت نوٹس لے لیا،  عدالت نےوارڈنز کی جانب سےوڈیو اورتصاویربنانےپرپابندی عائدکردی۔

تفصیلات کےمطابق گزشتہ روز ٹریفک وارڈنز کی جانب سے ایک صحافی کے ساتھ بدتمیزی کرنے کا واقعہ پیش آیا، بدتمیزی کرنے کے بعد ٹریفک اہلکار نے خود کو سچا ثابت کرنے کیلئے ویڈیو بنا کر اپنی شرافت کو ڈونگ رچایا اور الٹا صحافی پر الزامات تراشی شروع کردی لیکن آج عدالت میں جب رپورٹ پیش کی گئی تو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوگیا۔

عدالت نے ٹریفک پولیس پرسخت برہمی کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ کہ وارڈنز کاکا م صرف چالان کرناہےوڈیو بنانانہیں، جسٹس علی اکبرقریشی  نے کہا کہ کس قانون کےتحت وارڈن نےصحافیوں کی وڈیوزبنائیں، وارڈنز سڑکوں پرکھڑےخوشگپیو ں میں مصروف رہتےہیں،صحافی ہویاکوئی شہری کسی کی تذلیل برداشت نہیں کریں گے، وارڈنزکےپاس چالان کرنےکےعلاوہ کوئی اختیار نہیں۔

لاہور ہائیکورٹ نے آج حکم جاری کردیا کہ آئندہ کے بعد کوئی وارڈن اہلکار ویڈیو اور تصاویر نہیں بنائے گا۔اس سلسلے میں جسٹس علی اکبرقریشی نے سی ٹی او کیپٹن(ر) لیاقت کو کل طلب کرلیا۔عدالت نے ریمارکس دیئے کہ صحافی برادری خودکہتی ہےاگر کوئی رولز کی خلاف ورزی کرتا ہےتو چالان کریں۔

سٹاف ممبر، یونیورسٹی آف لاہور سے جرنلزم میں گریجوایٹ، صحافی اور لکھاری ہیں۔۔۔۔