قائم اتحاد نے یمن کےسابق صدرکی جانب سے مذاکرات کی پیشکش کا خیرمقدم کیا

قائم اتحاد نے یمن کےسابق صدرکی جانب سے مذاکرات کی پیشکش کا خیرمقدم کیا


یمن(24نیوز):سعودی عرب کے سربراہی میں قائم اتحاد نے یمن کے سابق صدر علی عبداللہ صالح کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش کا خیرمقدم کیا ہے۔ترجمان کا کہنا ہے کہ سابق صدر نے یہ فیصلہ حوثی باغیوں کے نامناسب رویے کے سبب کیا ہے۔

عبداللہ صالح کو 2012 میں اس وقت اقتدار چھوڑنا پڑا جب ملک بھر میں احتجاج شروع ہو گئے تھے اور انھیں ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں کی حمایت حاصل ہے۔علی عبداللہ صالح نے ٹی وی پر ایک بیان میں کہا کہ’ وہ ایک نئی شروعات پر تیار ہیں۔ اگر سعودی اتحاد شمالی یمن کی ناکہ بندی ختم کر دے اور حملے روک دے۔ علی عبداللہ صالح کے ترجمان کا کہنا ہے کہ سابق صدر نے یہ فیصلہ حوثی باغیوں کے نامناسب رویے کے سبب کیا ہے۔

علی عبداللہ صالح حوثی باغیوں کے ساتھ مل کر سعودی اتحاد کے ساتھ گذشتہ دو برسوں سے جنگ کر رہے ہیں تاہم گذشتہ بدھ سے سابق صدر صالح کی حامی فورسز اور حوثی باغیوں کے درمیان جھڑپیں ہو رہی ہیں۔سعودی فوجی اتحاد حوثی باغیوں کو 2015 سے نشانہ بنا رہا ہے جب انھوں نے ملک کے دارالحکومت صناء سمیت ملک کے کئی علاقوں پر قبضہ کر لیا تھا۔