پی اے سی پر حکومت،اپوزیشن کا تناﺅ،پارلیمانی نظام داﺅ پر لگ گیا

پی اے سی پر حکومت،اپوزیشن کا تناﺅ،پارلیمانی نظام داﺅ پر لگ گیا


اسلام آباد( 24نیوز ) تحریک انصاف اور ن لیگ کے درمیان تناﺅ نے پبلک اکاونٹس کمیٹی کے چیئرمین کے تقرر کو مسئلہ بنادیا،حکومت نے تمام پارلیمانی کمیٹیوں کے نظام کو منجمند کر رکھا ہے۔

کسی بھی مہذب معاشرے کے قیام کیلئے بنیادی ضرورت احتساب کے جامع نظام کا موجود ہونا ہے، دنیا بھر میں سرکاری خدمات کی بہترین ادائیگی اور پبلک اکاﺅنٹس کی شفافیت جانچنے کیلئے پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کا نظام موثر سمجھا جاتا ہے، قومی اسمبلی کے رولز کے قاعدہ 202 سے 205 اور ان کی ذیلی شقیں پبلک اکاونٹس کمیٹی کی تشکیل اور اس کے کام کا تعین کرتی ہیں۔

1973 کے آئین اور قومی اسمبلی قواعد کے تحت پبلک اکاﺅنٹس پہلے قومی اسمبلی کے 23 ارکان پر مشتمل ہوتی تھی گزشتہ دور حکومت میں قواعد میں ترمیم کرتے ہوئے سینیٹ کو بھی پی اے سی میں نمائندگی دے دی گئی اور چھ سینیٹرز پی اے سی کا حصہ بنے جبکہ سیکرٹری قومی اسمبلی کی سربراہی میں ایک ایڈیشنل سیکرٹری، ایک جوائنٹ سیکرٹری اور دو ڈپٹی سیکرٹریز سمیت دس افسران پر مشتمل پی اے سی سیکرٹریٹ چیئرمین پی اے سی کے ماتحت کام کرتا ہے۔

آئین کے آرٹیکل 171 کے تحت آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے تمام وزارتوں، ڈویژنوں، کارپوریشنوں، آزاد اور نیم خود مختار اداروں کے سالانہ حسابات کی آڈٹ رپورٹ صدر کو پیش کرتا ہے جو قومی اسمبلی میں پیش ہونے کے بعد جائزے کیلئے پی اے سی کو بھیج دیتی یے۔ پی اے سی اخراجات، انتظامی معاملات، مجوزہ قانون سازی، ادارہ جاتی پالیسیوں کا جائزہ لیتی ہے۔

ہر وزارت کا پرنسپل اکاﺅنٹ آفیسر یعنی سیکرٹری پی اے سی کے سامنے پیش ہوکر جواب دیتا ہے، پی اے سی حکومت وقت کے معاشی فیصلوں اور سکینڈلز پر از خود نوٹس بھی لینے کا اختیار رکھتی ہے،پی اے سی کی اہمیت میں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے درمیان طے پانے والے میثاق جمہوریت کے بعد مزید بڑھ گئی جس کے تحت چیئرمین پی اے سی کا عہدہ اپوزیشن لیڈر کے پاس ہوگا لیکن موجودہ حکومت قائد حزب اختلاف کو چیئرمین پی اے سی لگانے کیلئے تیار نہیں جس کے باعث اپوزیشن نے دیگر قائمہ کمیٹیوں کیلئے بھی کوئی نامزدگی نہیں کی اور پارلیمانی کمیٹیوں کا نظام غیر فعال ہے۔