اخلاقی برائیاں اور زبان

غزل جاوید

اخلاقی برائیاں اور زبان


انسانی وجود کے ساتھ ہی زبان کا آغاز ہوا۔سب سے پہلے اللہ پاک حضرت آدمؑ سے ہم کلام ہوئے اور اس دنیا میں زندگی کے آغاز کے ساتھ ہی انسانی رابطے کا پہلاذریعہ زبان بنی۔ زبان سے ہم روزمرہ زندگی میں بات چیت کرتے اور ایک دوسرے کے خیالات،جذبات اور احساسات سے آگاہ ہوتے ہیں۔ زبان کے بغیر زندگی کا تصورہی ممکن نہیں۔ زبان بسا اوقات ہمارے لئے آسانی کیساتھ ساتھ مشکلات کا باعث بھی بنتی ہے۔ ایسا اس لئے ہوتا ہے کہ ہم معمولاتِ زندگی میں ایسے نازیباالفاظ ادا کر بیٹھتے ہیں جو زندگی کےساتھ ساتھ آخرت میں بھی ہمارے لئے باعث شرمساری بن سکتے ہیں۔ بعض اوقات جانے انجانے میں ایک دوسرے کا حال واحوال دریافت کرتے وقت غیبت،چغل خوری اور جھوٹ کے مرتکب بھی ہوجاتےہیں۔ جویقیناً انتہائی قبیح ہے۔

ضرور پڑھیں:ڈالر سستا ہوگیا

اردشادِربانی ہے:"اور تم میں سے کوئی ایک دوسرے کی غیبت نہ کرے کیا تم میں کوئی پسند کرتا ہےکہ وہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھائے تو تم اس سے گھن کرو گئےاور اللہ سے ڈرو بے شک اللہ توبہ قبول کرنے والا نہایت مہربان ہے."

اللہ تعالی کا فرمان ہے:"انسان جو بات بھی زبان سے نکالتا ہے تو اس کے (لکھنے لےکیے)ایک فرشتہ مقرر رہتا ہے’’(سورہ ق آیت نمبر18)

نبیﷺ سے ایک صحابی نے پوچھا،میرے بارے میں آپ ﷺ کو سب سے زیادہ خطرہ کس چیز سے ہے؟آپ ﷺ نے زبان پکڑ کر فرمایا" اس کا ڈر ہے"

آنحضرتﷺکایہ فرمان کہ‘‘ جوکوئی اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہےاسے چاہیے کہ وہ اچھی بات کہے یا چھپ رہے’’

جوشخص دونوں جبڑوں کے درمیان چیز ( زبان )اور دونوں پاؤں کے درمیان کی چیز (شرمگاہ) کی حفاظت کی ضمانت دے،میں اسکےلیے جنت کی ضمانت دے دوں گا’’(بخاری حدیث)

نبیﷺ نے فرمایا:" زبان سے جو زخم لگے گا وہ کبھی ٹھیک نہیں ہوتا لیکن تلواروں کے زخم درست ہوجاتے ہیں۔"

حدیث کے الفاظ ہیں کہ مسلمان وہ ہے جسکے ہا تھ وزبان سے دوسرے محفوظ رہیں۔"

حدیث کا مفہوم ہے"انسانوں میں بدترین انسان وہ ہے جسےِ اسکی بد کلامی کے ڈرلوگ اسے چھوڑ دیں۔"

حضرت لقمان نے اپنے بیٹے کو نصحیت کی کہ"بیٹا جب انسانو ں کے اندر رہو تو اپنی زبان کی حفاظت کرو۔"

اکثر اوقات جہاں ہم ایک دوسرے کے دکھ،دردو تکالیف کو دور کرنے کی کوشش کرتے ہیں وہی بے خیالی میں دوسروں کی دل آزاری بھی کرجاتے ہیں۔ ایسا کرتے ہم نہیں سوچتے کہ دلوں میں رب بستا ہے اسی لئےبابا  بلھے شاہ نے کہا ہے۔

"مندر ڈھا دے ،مسجد ڈھادے ڈھادے، جوکج ڈھینڈا پر دل نہ کسِےدا ڈھاویں بندیا رب دلاں وچ رہندا"

زبان سے الفاظ کی صورت دیا ہوا گھاؤ ہمیشہ ہی تازہ رہتا ہے بے شک وقت گزرنے کیساتھ ساتھ شدت میں کمی آجائے لیکن جب بھی وہ لمحہ یاد آتا ہے تو تلخ یادیں تازہ ہوجاتی ہیں جو یقیناً باعثِ تکلیف ہوتا ہے۔ انسان زبان کے پردے میں چھپا ہوا ہے۔کسی نے کیا خوب کہا کہ "پہلے تولوپھر بولو"۔

قرآن وحدیث میں زبان کے استعمال کے حوالے سے اتنے احکامات ہیں کہ اگر ہم ان پر عمل پیرا ہوں تو نہ صرف اس دنیا میں سرخرو ہوں گئے بلکہ آخرت میں بھی ہمارا ٹھکانہ جنت میں ہو۔

ہمیں موقع کی نزاکت کو دیکھتے ہوئےزبان کا استعمال کرنا چاہیے۔ ایک عام معقولہ ہے "اک چپ سو سکھ"

جدید دور کی بات کریں توآج کا انسان بڑا ہی بے احتیاط ہے۔کسی نے بڑی معقول بات کی ہے "باادب بانصیب،بے ادب بے نصیب"۔ خوش اخلاقی کا تعلق ہمیشہ زبان سے رہا ہے۔جسکی زبان میں نرمی ہوتی ہے اس سے لوگوں کی انسیت بھی زیادہ ہوتی ہے۔ بد اخلاق اور بد زبان سے ہر کوئی بھاگتا اسے برا سمجھتا ہے، اسی سبب معاشرے میں بھی اس کی کوئی عزت نہیں رہتی ۔

آخر میں حضور پاکﷺ کی ایک حدیث مبارکہ جہاں آپﷺ کی حس مزاح کو واضح کرتی ہے وہیں ہمیں شائستگی کے ساتھ مسکراہٹیں بکھیرنے کاپیغام بھی دیتی ہے ‘‘ ایک بار ایک بوڑھیا آپﷺ کے پاس آئی اور کہا یارسولﷺ آپﷺ میرے لیے دعاکریں کہ میں جنت میں جاؤں۔آپﷺ نے فرمایاکہ بوڑھے جنت میں نہیں داخل ہوں گئے۔آپ ﷺنے فرمایا جنت میں سب جوان ہی جایئں گئے،کوئی بھی بوڑھا نہیں ہوگا۔