اورنج ٹرین منصوبے نے ہائیکورٹ آنیوالے افسران،سائلین کو مشکل میں ڈال دیا


  لاہور (24نیوز) اورنج لائن ٹرین سٹیشن کی تعمیر کیلئے جی پی او چوک ہر قسم کی ٹریفک کیلئے بند کر دیا گیا جس کے باعث لاہور ہائیکورٹ میں آنے والےافسران، وکلاء اور سائلین کو مشکلات کا سامنا ہے۔

 

تفصیلات کے مطابق عدالتی حکم امتناعی ختم ہونے کے بعد اورنج لائن منصوبے کے رُکے ہوئے مقامات پر کام دوبارہ شروع کر دیا گیا ہے۔ ان مقامات میں سے ایک جگہ جی پی او چوک بھی ہے۔ یہ چوک مال روڈ پر ہائیکورٹ کے داخلی دروازے کے باہر ہے۔ چوک بند ہونے سے ہائیکورٹ کی حدود میں داخل ہونا بھی مشکل مرحلہ بن چکا ہے۔

 

جی پی او چوک کی بندش کے بعد ٹریفک کو متبادل راستوں پر موڑا گیا ہے مگر مال روڈ جیسی کوئی اور کشادہ سڑک نہ ہونے سے اس علاقے کی ملحقہ سڑکوں اور خاص طور پر عدالت کے گردونواح میں ٹریفک کا شدید دباؤ پیدا ہوگیا۔

 

ریگل چوک سے ناصر باغ کی جانب جانے والی ٹریفک کو ہائیکورٹ کے ججز گیٹ کے سامنے سے فین روڈ پر موڑا گیا ہے جس کے باعث اس پوائنٹ پر بھی گاڑیوں کی لمبی قطاریں معمول بن چکی ہیں۔ اس صورتحال سے عدالتی افسران، وکلاء اور دور درواز سے آنے والے سائلین کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

 

ہائیکورٹ کے گردونواح ٹریفک جام کامسئلہ ایک دو روزکانہیں کیوں کہ جی پی اوچوک کو تقریباتین ماہ کے لیے بندکیاگیاہے۔گاڑیوں کی اتنی زیادہ تعدادکوکنٹرول کرنے کیلئے بھی کشادہ راستوں کی ضرورت ہے جو اس علاقے میں نہیں ہیں۔ اس صورتحال نے جہاں ٹریفک وارڈنز کو امتحان میں ڈال دیا ہے وہیں عدالتی افسران کو آنے جانے میں ذہنی کوفت اٹھانا پڑ رہی ہے۔

ویڈیو دیکھیں