بلوچستان میں حکومتی بحران مزید سنگین، ایک اور معاون خصوصی مستعفی


کوئٹہ (24 نیوز) بلوچستان میں حکومتی بحران مزید سنگین ہوگیا ایک اور معاون خصوصی پرنس احمد علی نے بھی اپنا استعفیٰ گورنر محمد خان اچکزئی کو بھجوا دیا۔

صوبائی وزیر داخلہ میر سرفراز بگٹی اور وزیر ماہی گیری پہلے ہی مستعفی ہوچکے ہیں جبکہ معاون خصوصی امان اللہ نوتیزئی کو پہلے ہی عہدے سے ہٹایا گیا ہے۔ حکومتی اتحاد میں شامل پشتونخوا ملی عوامی پارٹی نیشنل پارٹی نے اپنے اپنے پارٹیوں کا اجلاس طلب کر لیا۔

تحریک عدم اعتماد کیلئے بلوچستان اسمبلی کا اجلاس 9 جنوری کو بلائے جانے کا امکان ہے۔ وزیر اعلیٰ نواب ثناء اللہ زہری بھی اپنے اتحادیوں سے صلاح مشہورے کر رہے ہیں وزیر اعلیٰ کے مخالف گروپ کا دعوی ہے کہ انہیں 40 سے زائد ارکان کی حمایت حاصل ہے۔

بلوچستان اسمبلی نے تحریک عدم اعتماد کی ارکان کی درخواست پر 9 تاریخ کو اسمبلی کا اجلاس طلب کرنے کے لئے وزیراعلیٰ بلوچستان کو اجلاس کا پرپوزل ارسال کر دیا ہے۔ ڈپٹی سکریڑی قانون سازی داد محمد آغا کے دستخطوں سے تمام ارکان کو نوٹسز کے ساتھ عدم اعتماد کی کاپیاں بھجوا دی گئی ہیں۔

اسمبلی ذرائع کے مطابق قانون کے مطابق کم سے کم 3 دن جبکہ زیادہ سے زیادہ 7 دن کے اندر اجلاس طلب کرنے کی پابندی ہے۔