سینیٹ انتخابات: پولنگ کا وقت ختم،غیر سرکاری نتائج آنا شروع


اسلام آباد(24نیوز) سینیٹ انتخابات کے لیے قومی و صوبائی اسمبلیوں میں پولنگ کا وقت ختم ہوگیا،اسلام آباد کی دونوں نشستوں پر مسلم لیگ ن کے حمایت یافتہ امیدوار مشاہد اللہ سید اور اسد اللہ جونیجو کامیاب ہوگئے ہیں،پنجاب سے 11سیٹیں ن لیگ کے حصہ میں آئیں،بارہویں کے ووٹوں کی گنتی جاری ہے،آصف کرمانی،اسحاق ڈار منتخب،فاٹا سے چار امیداروں نے آزاد حیثیت میں کامیابی حاصل کی ہے جن میں ہدایت اللہ،بلال الرحمان،شمیم آفریدی اور مرزا محمد آفریدی شامل ہیں۔خیبر پی کے سے پی ٹی آئی کے فیصل جاوید،سندھ سے پی پی پی کے اقلیتی امیدوار انور لال سینیٹر منتخب ہوگئے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق سینیٹ معرکے کے لیے پولنگ کا عمل صبح 9 بجے شروع ہوا جو بلاتعطل شام 4 بجے تک جاری رہا،وقت ختم ہونے کے بعد جو لوگ پولنگ اسٹیشن کے اندر موجود تھے صرف ان ہی کو ووٹ کاسٹ کرنے کی اجازت تھی۔ابتدائی نتائج کے مطابق مشاہد حسین سید آزاد حیثیت میں وفاق سے ، سابق وزیرخزانہ اسحاق ڈار ٹیکنوکریٹ کی نشست پر ، آصف کرمانی اور وزیراعظم کی بہن سعدیہ عباسی آزادحیثیت میں پنجاب سے سینٹر منتخب ہوگئی ہیں۔ مزید تفصیلات موصول ہورہی ہیں۔
ادھر پنجاب سے بھی غیر حتمی نتائج سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں جس کے مطابق پنجاب سے خو اتین کی دونوں نشستوں پرن لیگ کی حمایت یافتہ امیدوا ر سعدیہ عباسی اور نزہت صادق آزاد حیثیت سے کامیاب ہوئی ہیں ۔

پنجاب سے ٹیکنو کریٹ کی دونوں نشستوں پر بھی ن لیگ کے حمایت یافتہ امید وار کامیاب ہوئے جن میں حافظ عبد الکریم اور اسحاق ڈارشامل ہیں ۔پنجاب سے جنرل نشست پر ن لیگ کے حمایت یافتہ امید وار آصف کرمانی ،زبیر گل ،مصدق ملک ،مقبول احمد ،شاہین خالد بٹ ،مقبول احمد اور ہارون خان بھی کامیاب ہو گئے ۔اقلیتی نشست پر ن لیگ کے حمایت یافتہ آزاد امید وار کامران مائیکل کامیاب ہوئے ۔

بلوچستان اسمبلی میں کل اراکین کی تعداد 65 ہے لیکن گزشتہ روز منظور کاکڑ کو الیکشن کمیشن نے نااہل قرار دیا جس کے باعث تمام 64 اراکین نے ووٹ ڈالے اور اس طرح صوبائی اسمبلی میں ووٹرز کا ٹرن آؤٹ 100 فیصد رہا۔
الیکشن کمیشن نے سینیٹ انتخابات میں پولنگ کی نگرانی کے لیے نمائندے مقرر کیے ہیں جن میں الیکشن کمیشن کے چاروں ممبران اور سیکریٹری نگرانی کیلئے موجود رہے،الیکشن کمیشن کے اعلامیے کے مطابق سیکریٹری الیکشن کمیشن بابر یعقوب خیبرپختونخوا اسمبلی، ممبر الیکشن کمیشن، عبدالغفار سومرو بلوچستان اسمبلی، شکیل بلوچ سندھ اسمبلی اور الطاف ابراہیم قریشی پنجاب اسمبلی میں نگرانی کے لیے موجود ہیں۔
سیکریٹری الیکشن کمیشن نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ کسی امیدوار نے کوئی شکایت نہیں کی، سب امیدواروں نے اچھے انتظامات پر اطمینان کا اظہارکیا۔،ہارس ٹریڈنگ کی شکایت کے سوال پر سیکریٹری الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ انہیں کسی نے ایسی کوئی شکایت نہیں کی۔
الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کیے گئے ضابطہ اخلاق کے مطابق اراکین کے پولنگ اسٹیشن میں موبائل فون لانے پر مکمل پابندی تھی،ضابطہ اخلاق کے مطابق بیلٹ پیپر کو خراب کرنے یا اسے پولنگ اسٹیشن سے باہر لے جانے پر مکمل پابندی تھی اور جعلی بیلٹ پیپر استعمال کرنے پر کارروائی کا عندیہ دیا گیا تھا۔
الیکشن کمیشن کی جانب سے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر ایک لاکھ روپے تک جرمانہ اور 6 ماہ سے 2 سال تک قید کی سزا رکھی گئی تھی جب کہ الیکشن کمیشن مجاز تھا کہ جرمانہ اور قید کی سزا ایک ساتھ سنا سکے۔