مرغی کے گوشت سے متعلق رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش


اسلام آباد(24نیوز) سپریم کورٹ نےمرغیوں کو فراہم کی جانے والی خوراک کے حوالے سے سیکریٹری لائیو اسٹاک نسیم صادق اور ڈی جی فوڈ نور الامین سے نو مارچ کو تفصیلی رپورٹ طلب کرلی،  چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار کا کہنا ہے کہ شہریوں کو معیاری خوراک کی فراہمی یقینی بنائیں گے۔

چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں مرغیوں کو غیر معیاری خوارک کی فراہمی کے حوالے سے کیس کی سماعت کی۔ چیف سیکریٹری پنجاب کیپٹن ریٹائرڈ زاہد سعید، عدالتی کمیشن کے سربراہ سلمان اکرم راجہ اور ڈاکٹر فیصل مسعود پیش ہوئے۔

عدالتی معاون فیصل مسعود نے رپورٹ عدالت میں پیش کردی اور عدالت کے استفسار پر بتایا کہ مرغیوں کے گوشت کے لیے کئے گئے نمونوں میں جراثیم نہیں پائے گئے، مرغیوں سے متعلق جو مسائل آئے ہیں وہ گوشت سے متعلقہ نہیں، مرغیوں کو ذبح کرنے اور پیکنگ کے عمل کے دوران مضر صحت جراثیم پائے گئے ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ یہ توبڑی خوش آئند بات ہے کہ گوشت میں کوئی خرابی نہیں۔ عدالت نے کہا کہ ذبح ہونے سے لے کر فروخت ہونے تک کے عمل کو جراثیم سے پاک بنانے کے لئے آئندہ سماعت پر تجاویز پیش کی جائیں ۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ اگر خواتین چکن کو اچھی طرح دھو کر استعمال کریں تو جراثیم پر قابو پایا جاسکتا ہے، عدالت نے کیس کی سماعت نو مارچ تک ملتوی کردی ۔