کراچی: سورج کا پارہ چڑھ گیا،ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ


24 نیوز: کراچی میں سورج کے تیورتیکھے ہوگئے، لاہوریوں پر ٹھنڈی ہواہیں مہربان ہو گئیں ، شہر قائد کا درجہ حرارت 43ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا۔

تفصیلات کے مطابق مئی شروع کیا ہوا سورج نے بھی آگ برسانا شروع کردی۔ پارہ 43 لیکن شہریوں کو گرمی 45 ڈگری کی محسوس ہورہی ہے۔طبی ماہرین اورمحکمہ موسمیات نے شہریوں کو احتیاطی تدابیر کی ہدایت بھی کردی۔

محکمہ موسمیات کے مطابق کراچی میں کم سے کم درجہ حرارت 27 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا ہے جب کہ زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 43 ڈگری سینٹی گریڈ تک ہوسکتا ہے۔ ہوا میں نمی کا تناسب 68 فیصد ہے اورآئندہ 24 گھنٹوں کے دوران موسم شدید گرم اور خشک رہے گا۔

محکمہ موسمیات کے حکام نے مزید بتایا کہ کراچی میں جمعہ کے روز درجہ حرارت 42 ڈگری تک پہنچے کا امکان ہے جب کہ ہفتے سے شہر کا موسم دوبارہ معمول پر آنے کے امکانات ہیں ۔

گرمی میں شدت کے بعد شہریوں کی معمولات زندگی بھی متاثر ہو رہی ہے۔ ساحل سمندر کی ٹھندی ہوائیں بند ہونے کے بعد شہر قائد میں سورج ہے آگ برسانے لگا۔  شہریوں نے مطالبہ کیا ہے حکومت شہر کے مختلف علاقوں میں واٹر کولر رکھنے سمیت دیگر انتظامات کرے۔

محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے شہر قائد میں گرم اور خشک موسم کے باعث ہیٹ اسٹروک کا خدشہ ہے۔ شہریوں کو گرمی سے بچنے  کے لئے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے چاہیئں

 دوسری جانب خوشگوار موسم طوفان میں بدل گیا۔تیزاور گرد آلود ہوائیں سائن بورڈ،دکانوں کے شیڈز اڑا کر لے گئیں۔ لاہور  میں قدرت مہربان ہوگئی۔گرمی سے مرجھائے چہروں پر خوشی لوٹ آئی۔ مایوسی میں ڈوبے لوگ کھلکھلانے لگے۔کالی گھٹائیں اور سنسناتی ہوائیں ٹھنڈ ک لے آئیں۔کہیں زیادہ تو کہیں کم بارش نے موسم کو خوشگوار بنا دیا تھا۔محکمہ موسمیات نے بھی شاندار پیشگوئی کردی۔

پنجاب کے شہر چونیاں اور گردونواح میں موسلادھار بارش جاری رہی۔ گرمیوں کی پہلی بارش سے گرمی کا زور ٹوٹ گیا۔ بارش کے باعث گندم کی فصل کو شدید نقصان بھی پہنچا ہے۔سونا اگانے والے کاشتکار گندم کی فصل خراب ہوتے دیکھ کر پریشان بھی ہیں۔

حویلی لکھا،پھولنگر ،سانگلہ ہل ،رینالہ خورد،سرگودھا گردو نواح میں بارش ہوئی ۔ پنجاب کے شہری خوبصورت اور ٹھنڈا موسم انجوائے کرتے رہے تو کراچی میں لوڈشیڈنگ کا جن تاحال قابو نہیں ہوسکا۔شہر کے مختلف علاقوں میں بجلی کی بندش جاری ہے۔ وزیراعظم کے دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے۔

کے الیکٹرک کی جانب سے لیاری کورنگی اورنگی سمیت دیگر علاقوں میں 8 سے 10گھنٹوں کی لوڈشڈنگ کی جارہی ہے۔شہریوں کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت نے لوڈشیڈنگ ختم کرنے کے وعدے کئے تھے مگر وہ وعدہ ہی۔ کیا جو وفا ہوجائے۔شہریوں کا مزید کہنا تھا بل بھرتے ہیں پھر بھی بجلی نہیں دی جاتی۔

نیپرا کی تحقیقاتی رپورٹ میں بدترین لوڈشڈنگ کا ذمہ دار کے الیکٹرک کو ٹہرایا گیا تھا جبکہ کے الیکڑک کے کہناہے کہ علاقائی فالٹس کو لوڈ شیڈنگ کا تاثر دینا درست نہیں۔

علاوہ ازیں گرمی نے جہاں انسانوں کا جینا مہال کر دیا ہے وہاں جانور بھی بلبلا اٹھے ہیں۔ گرمی کی شدت سے چرند پرند دونوں ہی بے حال ہیں۔