رمضان،گرانفروشی اورہماری ذمہ داری

مناظرعلی

رمضان،گرانفروشی اورہماری ذمہ داری


ویسےتوماہ مقدس رمضان المبارک کانام سنتے ہی رحمتوں اوربرکتوں کاتصورذہن میں ابھرتاہے،جس نے سارا سال بھی مسجدکامنہ نہ دیکھاہووہ بھی اپنے رب کے حضورسربسجودہوکراپنے گناہوں کی معافی مانگتاہےلیکن پچھلے کچھ سالوں سے جب رمضان کی آمدکی خبریں پڑھتے ہیں توساتھ ہی مہنگائی اورذخیرہ اندوزی کاطوفان بھی یقینی آنکھیں پھاڑ پھاڑکرقوت خریدکم رکھنے والوں کودیکھتاہےاوربالآخرمقدس مہینے کاچاندنظرآتاہے،ایک دوسرے کومبارکبادوں کیساتھ ساتھ جہاں شیطان کااثرختم ہوتاہے وہیں حی الصلوۃ کی صداآتے ہی لوگ مسجدکی طرف دوڑپڑتے ہیں،مگرساتھ ساتھ ہی غریبوں کے دلوں کی دھڑکنیں تیزہوجاتی ہیں،بازارمیں گرانفروشوں کی چھریاں تیزہوجاتی ہیں،سحری وافطاری کابندوبست اورپھراس ماہ مبارک کے آخرمیں عیدکی خوشیاں منانے کیلئے ہزاروں روپے کی شاپنگ،یہ سب کچھ کیسے ممکن ہوگا،غریب آدمی جب دنیاداروں سے مایوس ہوجاتاہے توپھریہی کہتاہے کہ"اللہ بہترکرے گا"مگریہاں دیکھنے والی بات یہ ہے کہ غریب اورامیردونوں اللہ تعالیٰ کی ہی مخلوق ہیں،اسلام نے سب مسلمانوں کوایک دوسرے کابھائی قراردیاہے مگرپھرایک بھائی دوسرے بھائی کی کھال اتارنے پرنجانے کیوں تلاہواہے اوروہ بھی اس مہینے میں جس میں نیکیاں کمائی جاتی ہیں،جس میں برکتوں کانزول ہوتاہے،یہ سوچنے کامقام ہے،خاص طورپرکاروباری طبقے کیلئے،ریڑھی بان،دکاندار،بڑے تاجر،سبھی اپنی اپنی بساط میں غریبوں کیلئے آسانی پیداکرنے میں کیاکردارکرسکتے ہیں اوران کی کیاذمہ داری ہے؟

ہرسال رمضان سے قبل ہی حکومتی عہدیداروں کے اجلاس ہوتے ہیں کہ اس سال عوام کواتنی سبسڈی دے رہے ہیں،گرانفروشوں کیخلاف سخت کارروائی ہوگی،وغیرہ وغیرہ۔۔مگرآپ جانتے ہیں کہ ان اجلاسوں کے نتیجے میں غریبوں کیلئے کتنی آسانی پیداہوتی ہے؟اگرآپ باریک بینی سے دیکھیں توایک طرف اس کسان سے زیادتی ہورہی ہے جوسبزیاں،پھل اوراناج پیداکرکے مارکیٹس میں فروخت کررہاہے مگراس کے اخراجات کے تناسب سے صلہ نہیں ملتا،تیل،کھاد،زرعی ادویات اوردیگراخراجات نکال کرکسان کی جیب میں نہ ہونے کے برابرپیسہ جاتاہےجواونٹ کے منہ میں زیرے کے برابرہے،کسان پراس ظلم کاذمہ دارمنڈی میں بیٹھاوہ آڑھتی ہے جس نے ریٹ اپنی مرضی کالگاناہے جہاں کسان کی مرضی نہیں چل سکتی۔پھریہی اشیاء منڈیوں سے دکانوں پرآتی ہیں جہاں پھرایک دفعہ دکانداراشیاء کواپنی مرضی سے پیک کرکے ان پراپنی مرضی کی قیمتیں لگاکرعوام کے دوسرے بے بس طبقے خریدارپرظلم کرتاہے،یہاں بھی خریداربے بس ہے،اس نے کچن چلاناہے لہذا،آٹا،چاول،گھی،چینی اورپھلوں سمیت دیگراشیادکانداروں کے مرضی کے ریٹ پرخریدناپڑتی ہیں۔۔ایک طرف کسان اوردوسری طرف عام شہری گرانفروشوں کے ظلم کاشکارہے،یہ ظلم اس وقت مزیدبڑھ جاتاہے جب کسی بھی چیز کی طلب بڑھتی ہے،رمضان المبارک میں چونکہ اشیاء کی طلب بڑھ جاتی ہے تویہی مافیا وقت کافائدہ اٹھاتاہے جس کیخلاف آج تک کوئی ٹھوس کارروائی نظرنہیں آئی اورنیتجتا ہررمضان میں عوام مہنگائی کے جن کالقمہ بن جاتے ہیں۔۔اس سارے معاملے کاحل کیاہے؟؟میری نظرمیں جہاں پرائس کنٹرول سسٹم کوبہترکرنے کی ضرورت ہے وہیں آگاہی مہم چلانے کی ضرورت ہے ایک ایسی مہم ڈیزائن کرنے کی ضرورت ہے جومسلسل چلے،اس مہم میں کاروباری طبقے میں شعورپیداکیاجائے کہ صرف جائزمنافع ہی ان کاحق ہے،ناجائزمنافع سے جہاں وہ عوام پرظلم کررہے ہیں وہیں وہ اپنے اوپربھی ظلم کررہے ہیں کیوں کہ کوئی بھی دین اس کی اجازت نہیں دیتا،دکانداروں کوشعورہوناچاہیے کہ وہ جس رب کی عبادت کرتے ہیں وہی رب ناجائز منافع خوری سے ناراض ہوتاہے،اگرانتظامیہ گرانفروشوں کوسخت سزائیں دلانے میں کامیاب ہوجائے اورآگاہی مہم مسلسل چلانے کابندوبست کرلے تویہ لعنت معاشرے سے مکمل طورپرختم ہوجائےگی۔

رمضان المبارک میں کچھ الگ کرنے کی ضرورت ہے،یہ بھی شعوربیدارکرنے سے ممکن ہے،جوجتنابڑاکاروباری شخص ہے اس پراس مہینے میں اتنی ہی بڑی ذمہ داری عائدکی جائے،مثال کے طورپروہ اپنے ملازمین کواس ماہ ایک کی بجائے دوتنخواہیں دینے کاپابندہو،بلاتفریق ہرملازم کوایک مہینے کاراشن اس کے فیملی ممبرزکے تناسب سے دینے کاپابندہو، عیدپیکج میں ملازمین کے جتنے فیملی ممبرزہیں اس تعدادکومدنظررکھتے ہوئےکپڑے،جوتےاوردیگراخراجات اٹھانے کاپابندہو،،اسی طرح ہرمحلے میں صاحب حیثیت شخصیات کی کمیٹی بناکراپنے گلی محلے کے مستحق افرادمیں رمضان پیکج اورعیدپیکج تقسیم کرنے کااہتمام کیاجائے-

شہروں کے علاوہ اس طرح کاعمل دیہات میں بھی ممکن بنایاجائے،ہرگاؤں کے بڑے ذمینداراپنے ملازمین اوردیگرغریب لوگوں کوایک ماہ کیلئے کفالت میں لے لیں،ان کے کھانے پینے کااہتمام اورعیدکے اخراجات مل جل کربرداشت کریں۔مالک مکان رمضان میں اپنے کرائے دارکوایک ماہ کا کرایہ معاف کردے اورپلازہ مالکان اپنے دکانداروں کو کم ازکم آدھاکرایہ معاف کردیں،مختصر یہ کہ ہرمالدارآدمی اپنے ملازمین اورگردونواح کے افرادکاخیال رکھے تووہ دن دورنہیں جب غربت جڑ سے ختم ہوجائے اورہرجگہ خوشحالی آجائے،نہ صرف رمضان اچھاگزرے بلکہ سال کے بارہ مہینے ہی پُرسکون اندازمیں گزرجائیں،جس طرح امیروں کومہنگائی کی فکرنہیں اسی طرح غریب بھی بے فکرہوجائیں۔

بلاگر کاتعلق پنجاب کے ضلع حافظ آبادسے ہے اوروہ گزشتہ ڈیڑھ دہائی سے پرنٹ والیکٹرانک میڈیاسےمنسلک ہیں، آج کل سٹی نیوزنیٹ ورک میں خدمات سرانجام دے رہے ہیں اور24نیوزکیلئے مستقل بلاگ لکھتے ہیں، انہوں نے"کلیدصحافت"کے نام سے صحافت کے مبتدی طلباء کیلئے ایک کتاب بھی لکھی ہے۔