صدار تی الیکشن کی تیاریاں مکمل،پولنگ کل ہوگی

صدار تی الیکشن کی تیاریاں مکمل،پولنگ کل ہوگی


اسلام آباد( 24نیوز )صدارتی الیکشن کل ہوگا جس کیلئے الیکشن کمیشن نے تمام تیاریاں مکمل کرلی ہیں اور اس سلسلے میں پارلیمنٹ ہاوس اور چاروں صوبائی اسمبلیوں میں پولنگ اسٹیشن قائم کردیے گئے۔
صدارتی انتخاب کے لیے کل ہونے والی پولنگ کے لیے بیلٹ پیپرز اور دیگر سامان متعلقہ اسمبلیوں میں پہنچا دیا گیا ہے،بیلٹ پیپر پر پیپلز پارٹی کے امیدوار اعتزاز احسن کا نام پہلے نمبر پر موجود ہے جب کہ تحریک انصاف کے امیدوار ڈاکٹر عارف علوی دوسرے اور مولانا فضل الرحمان کا نام تیسرے نمبر پر درج ہے۔
صدارتی انتخاب کے لیے پولنگ کل پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس اور تمام صوبائی اسمبلیوں میں ہوگی،چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) سردار محمد رضا صدارتی انتخاب کے لیے ریٹرنگ آفیسر ہیں جبکہ چاروں صوبائی اسمبلیوں میں ہائی کورٹس کے چیف جسٹس صاحبان اور سینٹ و قومی اسمبلی میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس پریزائیڈنگ آفیسر کی ذمہ داری سر انجام دیں گے۔
یاد رہے حکومتی اور اپوزیشن اتحاد کے پاس کتنے ووٹ ہیں اور کہاں کتنے ووٹ آزاد ہیں، قومی اسمبلی کے 342 کے ایوان میں 12نشستیں خالی ہیں، موجودہ 330 کے ایوان میں تحریک انصاف کے پاس 176 اور اپوزیشن کے پاس 150ووٹ ہیں جبکہ 4 ارکان آزاد ہیں، سینیٹ میں 68 ارکان کا تعلق اپوزیشن، 25 کا پی ٹی آئی الائنس جبکہ 11 آزاد سینیٹرز ہیں۔پنجاب اسمبلی میں بلوچستان اسمبلی کے تناسب کے لحاظ سے حکومتی اتحاد کی 33، اپوزیشن کی 30 جبکہ ایک رکن آزاد ہے، سندھ میں پی ٹی آئی الائنس کے 26 ووٹ اپوزیشن اتحاد کے 38 جبکہ تحریک لبیک کے پاس ایک ووٹ ہے۔خیبر پی کے میں حکومتی الائنس کے 45ووٹ اپوزیشن الائنس کے 18 اور 2 ووٹ آزاد ارکان کے ہیں بلوچستان اسمبلی میں حکومتی اتحاد کے پاس 41ووٹ، اپوزیشن کے 16 اور 4 ووٹ آزاد ارکان کے ہیں۔ یوں پی ٹی آئی اتحاد کے کل ووٹ 346 اپوزیشن الائنس کے 320 اور آزاد ووٹرز کی تعداد 23 کے قریب ہے،یہ بھی خبر ہے کہ فاٹا سے تین آزاد سینیٹرز پی ٹی آئی کا حصہ بن چکے ہیں۔


کہانی میں ٹوئسٹ یہ ہے کہ حکومتی اتحاد کا ایک امیدوار ہے اور اپوزیشن متفقہ امیدوار لانے میں ناکام رہی ہے،اب اس کے دو امیدوار میدان میں ہیں تو اپوزیشن کا ووٹ تقسیم ہوجائے گا-

اس وقت 672 کے الیکٹورل کالج میں تحریکِ انصاف کے عارف علوی 342 ووٹوں کے ساتھ برتری لیے نظر آتے ہیں تاہم اپوزیشن کے ایک امیدوار ہونے کی صورت میں ان کے پاس مولانا فضل الرحمن کے 203 اور چوہدری اعتزاز احسن کے 115 ووٹوں کو ملا کر کل 318 ووٹ ہوسکتے تھے۔ آزاد ارکان کے 11 ووٹوں کو ملا کر یہ تعداد 329 تک بھی پہنچ سکتی تھی اور یوں خفیہ رائے شماری کے اس صدارتی انتخاب میں جوڑ توڑ سے مقابلہ کانٹے دار بنانا ممکن تھا۔